پروسٹیٹ کینسر : صرف ایک انار سے اس بیماری کا علاج کیسے ممکن؟

image

پاکستان میں مردوں میں ٹیسٹیکیولر اور پروسٹیٹ کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن صحت کی بروقت جانچ کروانے والے صرف چند ہی افراد ہیں۔ تاہم پروسٹیٹ کینسر کاصرف ایک انار سے علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر مرد اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں کے باعث اپنی صحت نظر انداز کرتے ہیں، جس سے بیماری کی نشاندہی دیر سے ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال مردوں کی 30 فیصد اموات دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے زائد مرد ذیابیطس کے شکار ہیں اور تقریباً 72 فیصد مرد ذہنی دباؤ یا تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق پاکستان میں مرد اپنی روزمرہ زندگی میں زیادہ تر محنت میں مشغول رہتے ہیں اور اپنی صحت پر توجہ کم دیتے ہیں۔ اس دوران ٹیسٹیکیولر اور پروسٹیٹ کینسر کے کیسز بڑھتے جا رہے ہیں، مگر صرف تقریباً 20 فیصد مرد باقاعدگی سے اسکریننگ کراتے ہیں۔ ماہرین تاکید کرتے ہیں کہ مرد بلا جھجک پروسٹیٹ اور ٹیسٹیکیولر کینسر کا معائنہ کرائیں۔

پروسٹیٹ کینسر مردوں کے تولیدی نظام کے غدود (پروسٹیٹ) میں خلیوں کی بے قابو نشوونما ہے، جو عام طور پر عمر رسیدہ مردوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کینسر دھیمی رفتار سے بڑھتا ہے، لیکن بعض اقسام خطرناک ہو سکتی ہیں اور جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے یہ قابل علاج ہے۔

ابتدائی مراحل میں پروسٹیٹ کینسر کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن بعد میں پیشاب میں دشواری، رات کو بار بار پیشاب آنا، پیشاب یا منی میں خون، اور کمر و کولہوں میں درد جیسے علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

اس مرض کے علاج سے متعلق ہربلسٹ غالب آغا نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ایک آسان نسخہ بتایا۔ نسخے کے مطابق ایک درمیانے سائز کا انار اور پانی لے کر انار کو 15 سے 20 منٹ تک ابالیں، نرم ہونے کے بعد رس نچوڑ کر روزانہ استعمال کیا جائے تو پروسٹیٹ کینسر میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر کے بعد پروسٹیٹ کینسر 13ویں نمبر پر ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ دوسرا سب سے عام کینسر ہے۔ 50 سال سے زائد عمر، خاندانی تاریخ اور موٹاپا پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ باقاعدہ اسکریننگ (پی ایس اے ٹیسٹ) اور ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US