سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران احمد خان نیازی کی جانب سے دائر تین فوجداری درخواستوں کو غیر مؤثر (انفریکچوئس) قرار دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ چونکہ ٹرائل کورٹ کا حتمی فیصلہ پہلے ہی چیلنج ہوچکا ہے اور اپیل ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اس لیے درخواست گزار اپنے تمام اعتراضات متعلقہ فورم یعنی ہائی کورٹ میں اٹھا سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کو جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 12 فروری 2026 کو سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔
عدالت کے روبرو یہ تینوں درخواستیں ایک ہی فوجداری مقدمے سے متعلق تھیں جو الیکشن کمیشن آ ف پاکستان کی جانب سے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد کے ذریعے دائر شکایت پر قائم ہوا تھا۔ اگرچہ درخواستوں میں مختلف عبوری اور ضمنی عدالتی احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا تاہم ان کا پس منظر مشترک تھا۔
پہلی درخواست (سی آر پی ایل اے نمبر 921/2023)درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ میں اختیارِ سماعت اور مدت کی پابندی سمیت بعض قانونی نکات اٹھائے تھے جنہیں مسترد کردیا گیا۔ ہائی کورٹ نے نظرِ ثانی میں معاملہ واپس ٹرائل کورٹ بھیجا تاہم بعد ازاں ٹرائل مکمل ہو کر 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنا دیا گیا، جس کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔
دوسری درخواست (سی آر پی ایل اے نمبر 922/2023) اس درخواست میں بعض گواہوں کو طلب کرنے کی استدعا مسترد کیے جانے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی اور متفرق درخواست کے باوجود ٹرائل پر حکمِ امتناع جاری نہ ہوا اور بعد ازاں ٹرائل مکمل ہوگیا۔
تیسری درخواست (سی آر پی ایل اے نمبر 938/2023)اس میں مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ تاہم ٹرائل کورٹ نے حتمی فیصلہ سنا دیا جس کے خلاف اپیل پہلے ہی دائر ہو چکی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ عبوری احکامات ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے میں ضم ہوچکے ہیں اور وہ فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج ہے اس لیے یہ درخواستیں غیر مؤثر ہوچکی ہیں۔
جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹس سماعت کے دوران عدالت نے سابقہ تین رکنی بینچ کے احکامات کی روشنی میں اٹارنی جنرل سے جیل میں درخواست گزار کی رہائش اور سہولیات سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت کے حکم پر سنٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ اور عدالتی معاون (ایمکس کیوری) بیرسٹر سلمان صفدر نے الگ الگ رپورٹس جمع کرائیں۔ عدالت نے رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مجموعی طور پر جیل میں درخواست گزار کی رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں اور خود درخواست گزار نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
تاہم آنکھوں کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا جس پر اٹارنی جنرل نے ماہر امراضِ چشم پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے فوری معائنہ کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عدالتی معاون نے درخواست گزار کو برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان سے قانون کے مطابق رابطے کی اجازت دینے اور بعض کتابوں کی فراہمی کی سفارش کی جس پر بھی اٹارنی جنرل نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جیل کی صورتحال سے متعلق 24 اگست 2023 کے حکم کی تعمیل ہو چکی ہے۔ تاہم سابقہ تین رکنی بینچ کی ہدایات کے پیشِ نظر موجودہ درخواستیں غیر معینہ مدت تک ملتوی کی جاتی ہیں اور انہیں اس وقت سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا جب ہائی کورٹ اپیل پر فیصلہ سنا دے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس دوران اگر درخواست گزار کو کوئی شکایت ہو تو وہ پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کریں جہاں ان کی اپیل زیرِ سماعت ہے۔