وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچین اسٹوکر سے ویانا کے تاریخی ہوف برگ پیلس میں واقع وفاقی چانسلری میں ملاقات کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
وزیراعظم کی آمد پر چانسلر کرسچین اسٹوکر نے ان کا خیرمقدم کیا جبکہ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے محدود سطح پر بات چیت ہوئی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی شامل تھیں۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آسٹریا کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان شعبوں میں معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، آئی ٹی، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور امن و سلامتی، پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی حقوق کے فروغ میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ اور اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آسٹریا کے چانسلر نے آسٹریا اور پاکستان کی معروف کمپنیوں کے سربراہان کے مشترکہ فورم کی بھی مشترکہ صدارت کی، جس میں قابل تجدید توانائی، صنعتی پیداوار، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان، صحت، سیاحت اور زرعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کامیاب اور نتیجہ خیز ملاقاتوں پر آسٹریا کے چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔