وزیر دفاع خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی سے کسی بھی قسم کی ڈیل یا بیرون ملک منتقلی سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
نجی ٹی وی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو نہ تو بیرون ملک بھیجنے اور نہ ہی بنی گالا منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی رعایت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کی سہولیات کے بارے میں شاید بات کی گئی ہو، تاہم ڈیل کی افواہیں سیاسی مقاصد کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پارٹی کی سیاسی اہمیت برقرار رکھی جاسکے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ملک سے زیادہ کسی ایک فرد کو اہمیت دیتے ہیں، اور یاد دلایا کہ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ ریاست ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
وزیر دفاع نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مبینہ "رہائی فورس" کے اعلان کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسلح یا سیکیورٹی فورس کا قیام صرف ریاست اور وفاق کا اختیار ہے۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ امن بورڈ اجلاس میں پاکستان کو منفرد مقام حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریف کی اور پاک فوج کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ کشیدگی کا متعدد بار ذکر کیا، جو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکا کو پاکستان کے لیے انتہائی کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی آبادکاری اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر وعدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ دوبارہ اپنے اصل باشندوں سے آباد ہوگا۔