الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری نے بی بی سی کی کیرولائن ڈیوس کو بتایا کہ امدادی کارکن ایک اور برفانی تودے کے خطرے کے باعث تشویش میں مبتلا ہیں اور پہاڑ پر برف اور برفانی تہوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور حالات دشوار ہیں۔
سنیچر کو تلاش کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ موسم سازگار ہونے پر ہیلی کاپٹرز بھی تلاش کی کارروائی میں شامل ہو جائیں گےپاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش کا آپریشن وسیع کر دیا گیا ہے۔ اب تک تین کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سنیچر کو دوبارہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
تودہ گرنے کے 48 گھنٹے بعد مقامی پاکستانی کوہ پیما رضاکارانہ طور پر تلاش کی کارروائی میں شریک ہیں جبکہ نیپال سے تعلق رکھنے والے دیگر کوہ پیما بھی قریبی کے ٹو مہمات ترک کر کے اس آپریشن میں شامل ہو گئے ہیں۔
دنیا کی کئی بلند چوٹیاں سر کرنے والے نیپال کے معروف مِنگما گیابو شیرپا نے بی بی سی نیوز اردو کی منزہ انوار کو بتایا کہ ریسکیو کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے آج صبح وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سکردو پہنچ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ مِنگما گیابو شیرپا ایک تجربہ کار کوہ پیما ہیں، جنھوں نے ہمالیائی خطے میں متعدد امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری نے بی بی سی نیوز کی کیرولائن ڈیوس کو بتایا کہ امدادی کارکن ایک اور برفانی تودے کے خطرے کے باعث تشویش میں مبتلا ہیں اور پہاڑ پر برف اور برفانی تہوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات دشوار ہیں اور موسم سازگار ہونے کی صورت میں مدد کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر تیار کھڑے ہیں۔
مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ اب تک تین کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں عمان، امریکہ اور نیپال کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
براڈ پیک کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہاں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا تھا۔
جمعے کو کمشنر بلتستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 30 جولائی 2026 کو صبح نو بجے کوہ پیماؤں کی ٹیم سے آخری مرتبہ رابطہ ہوا، اور رات آٹھ بجے اطلاع ملی کہ تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کی جانب پیش قدمی کے دوران ٹیم کو برفانی تودے کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان کے مطابق اس مہم کے ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر 31 جولائی کو صبح 8:30 بجے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تین رکنی سول ریسکیو ٹیم کو براڈ پیک بیس کیمپ پہنچایا گیا۔
حکام کے مطابق اس ریسکیو ٹیم نے بیس کیمپ سے کیمپ ٹو کی جانب پیدل پیش قدمی کے دوران تین کوہ پیماؤں کی میتیں تلاش کیں جن میں عمان، امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل ہیں اور یہ میتیں اب ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سی ایم ایچ سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔
وزیر سیاحت گلگت بلتستان نیک نام کریم کے مطابق جن تین کوہ پیماؤں کی میتوں کی شناخت ہوئی ہے ان میں امریکی کوہ پیما میلوری گیئس، عمان سے تعلق رکھنے والی نظیرہ احمد الحارثی اور یُکتا کے نام سے معروف نپیالی شرپا پور بہادر گرونگ شامل ہیں۔
پاکستان الپائن کلب کی ترجمان نائلہ کیانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نظیرہ اور یُکتا کی لاشیں مکمل حالت میں ملیں جبکہ میلوری کی ٹانگ اور جوتوں سے انھیں شناخت کیا گیا۔
بلند ترین علاقوں میں خراب موسم اور دشوار گزار حالات ریسکیو کارروائیوں کو مشکل بنا دیتے ہیں تلاش اور بچاؤ کی کارروائی
خیال رہے کہ ایسے بلند ترین علاقوں میں خراب موسم اور دشوار گزار حالات ریسکیو کارروائیوں کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے وزیرِ سیاحت کے مطابق کوہ پیماؤں کی تلاش کی کارروائی کی قیادت پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کر رہے ہیں جنھیں شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں کی مدد حاصل ہے۔
ان کے مطابق سرباز خان اور ان کی ٹیم تلاش اور بچاؤ مشن کے لیے براڈ پیک کے کیمپ ون تک گئے۔
اس سے قبل الپائن کلب کے ایاز شگری نے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر ڈرونز اور زمینی ٹیم ریسکیو آپریشن میں شریک رہے۔
ایاز شگری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے دو ہیلی کاپٹرز بھی کے ٹو بیس کیمپ پر ہیں اور ریسکیو مشن کا حصہ بنیں گے۔ الپائن کلب کے مطابق ان ہیلی کاپٹرز میں امدادی کارکن اور اضافی خصوصی سازو سامان بھی موجود ہے۔
لاپتہ کوہ پیماؤں میں کون کون شامل ہے؟
کوہ پیماؤں کا یہ گروپ نرمل پرجا اور ان کے پانچ نیپالی ساتھیوں، پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، امریکہ اور عمان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما پر مشتمل تھا۔
حکام نے ان میں سے عمان کی کوہ پیما نظیرہ احمد الحارثی، امریکہ کی میلوعی گیئسن اور نیپال کے شرپا یکتا کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے ایک کے ’مینٹور‘ سیمسن شراف نے کلائمبنگ نامی ویب سائٹ سے جی پی ایس ڈیٹا شیئر کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تودہ مقامی وقت کے مطابق صبح 08:57 اور 09:30 کے درمیان گرا اور اس وقت عمان کی خاتون کوہ پیما نظیرہ الحارثی 1651 میٹر (5417 فٹ) نیچے کی جانب گئیں۔
نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی 2019 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی عمانی خاتون بنی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے دنیا کی کئی بلند چوٹیوں کو سر کیا، جن میں مناسلو، کے ٹو اور نانگا پربت شامل ہیں۔ 2022 میں وہ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والی پہلی عمانی خاتون بنیں جبکہ 2024 میں انھوں نے نانگا پربت بھی سر کی۔
نیپال کے شرپا یُکتا انٹرنیشنل فیڈریشن آف ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشنز سے سند یافتہ کوہ پیما تھے اور وہ 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا چیلنج مکمل کرنے کے بہت قریب تھے اور براڈ پیک اس فہرست کی 13ویں چوٹی تھی۔
گزشتہ موسم بہار میں یکتا نے نیپال کی تین آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کیں اور اس سیزن کے اختتام تک وہ ایورسٹ کی 10 کامیاب مہمات اور آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں کی 12 کامیاب مہمات اپنے نام کر چکے تھے۔
یکتا اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے وہ ایک صدی پرانا جوتا دریافت کیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ برطانوی کوہ پیما اینڈریو ’سینڈی‘ ارون کا ہے، جو 1924 میں جارج میلوری کے ساتھ ایورسٹ پر لاپتہ ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والی تیسری کوہ پیما امریکہ کی میلوری گیئس کی یہ پاکستان میں پہلی انتہائی بلندی والی کوہ پیمائی مہم تھی۔ میلوری گیئس کے جی پی ایس ٹریکر کے مطابق جب تودہ گرا تو اس کے بعد ان کا ٹریکر 543 میٹر (1781 فٹ) نیچے کی جانب گیا۔
کوہ پیما جب بلند چوٹیوں پر چڑھتے ہیں تو عام طور پر جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائسز اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ سنہ2024 میں، نیپالی حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے والے کوہ پیماؤں کے لیے ایسے ٹریکرز کو لازمی قرار دیا تھا۔
تاحال لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کا تعلق ہنزہ سے ہے اور وہ ماضی میں کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو جیسے پہاڑ سر کر چکے ہیں اور نائلہ کیانی کے مطابق اب تک کے آپریشن میں ان کا بیگ اور ٹریکر ملا ہے۔
سہیل سخی اس مہم پر امریکی خاتون کوہ پیما میلوری گیئس کے ساتھ گئے تھے۔
تاحال لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے سب مشہور نام نرمل پرجا کا ہے جنھیں نمز دائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک ہیں لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا ہے۔
ان کے علاوہ لاپتہ نیپالی کوہ پیماؤں میں کچھ اور بڑے نام بھی ہیں، جن میں کلی پیمبا شرپا قابلِ ذکر ہیں۔ کلی پیمبا اب تک 15 بار ایورسٹ سر کر چکے ہیں۔ سنہ2021 میں وہ نرمل پرجا سمیت متعدد نیپالی کوہ پیماؤں کے ساتھ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی تاریخی مہم کے رکن بھی تھے۔
نرمل پرجا کون ہیں؟
معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کا شمار دُنیا کے بڑے کوہ پیماؤں میں ہوتا ہےنیپال میں واقع دنیا کے ساتویں بلند پہاڑ کے قریب ڈھولگیری میں جنم لینے والے نرمل نیپال میں ہی چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے اور 2003 میں 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔
ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سنہ 2018 میں نرمل نے فوج کی نوکری چھوڑی اور اگلے ہی سال دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے سمیت کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔
نرمل نے آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی والے تمام پہاڑوں کو 2019 میں صرف چھ ماہ اور چھ دن میں سر کیا جبکہ اس سے پہلے یہ ریکارڈ سات برس دس ماہ کی مدت کا تھا جو جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے کم چانگ ہو کے نام تھا۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ 14 چوٹیاں ایک ایسے ’ڈیتھ زون‘ (موت کے علاقے) کی نمائندگی کرتی تھیں جہاں انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں تھا۔
ان کے اس کارنامے پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی جس کا نام 14 چوٹیاں: کچھ بھی ناممکن نہیں رکھا گیا۔
اس کارنامے کے بعد اپنے پیغام میں نرمل نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی اپنے خوابوں کو حاصل کر سکتا ہے اگر وہ اس پر توجہ دے۔ یہ پہاڑ پر چڑھنے کی بات نہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کی بات ہے۔‘
دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو تیز ترین وقت میں سر کرنے پر ان کے نام چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی درج ہیں۔
’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا
پاکستان میں مہم جوئی کے سفر سے قبل نرمل پرجا کا کہنا تھا کہ ’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔
مہم پر روانہ ہونے سے قبل پیر کو ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں منصوبہ صرف گیشابرم ٹو سر کرنے کا تھا۔ لیکن پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو (بغیر آکسیجن کے) دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کا پہلا فرد‘ بننے کے لیے صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔
ایکس پرپرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ سے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘
براڈ پیک: مشکل پہاڑوں میں سے ایک
پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسری سب سے اونچا پہاڑ ہے۔
اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی طور پر چوڑے ’سمٹ رج‘ کی وجہ سے دیا گیا جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔
سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔
براڈ پیک کو پہلی بار 1957 میں سر کیا گیا تھا جب آسٹریا کی چار رکنی مہم چوٹی تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے، جہاں سینکڑوں لوگ اسے سر کر چکے ہیں وہیں درجنوں اس دوران اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو چکے ہیں۔
2013 براڈ پیک پر مہمات کے لیے مہلک ترین سالوں میں سے ایک تھا جس میں کم از کم چھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
مارچ 2013 میں دو پولش کوہ پیماؤں کو جن کی عمریں 27 اور 58 سال تھیں، اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب وہ چوٹی سے اترتے وقت لاپتہ ہوئے۔چند ماہ بعد تین ایرانی کوہ پیماؤں کا بھی یہی انجام ہوا اور پھر ایک جرمن کوہ پیما پہاڑ سے پھسل کر ایک پہاڑی نالے میں گر کر ہلاک ہوئیں۔