متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ کل سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب ایک اہم موڑ میں داخل ہوگئے ہیں، اب فیصلہ کرنا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹ لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہے اور ایم کیو ایم امن سے رہنے کی خواہش رکھنے والی جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے ہوتے ہوئے ’سندھو دیش‘ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ پورے پاکستان کا سب سے زیادہ کثیر لسانی صوبہ ہے اور شہری علاقوں کے ساتھ گزشتہ پچاس برس سے ناانصافی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 239 نئے صوبوں کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا لازم ہے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو بااختیار بنانے کو تیار نہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 ریفرنڈم کی بھی اجازت دیتا ہے اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہ ہوا تو وہ دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔