نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر قومی شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پہلی بار رجسٹریشن کے لیے یہ سہولت 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی اور درخواست گزار کی شناخت متبادل طریقوں سے تصدیق کی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ شناختی کارڈ کے حصول کے خواہشمند افراد مخصوص شرائط پوری کر کے درخواست دے سکیں گے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے شہریوں کو قومی شناختی نظام میں شامل کرنا ہے جو پیدائشی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث شناختی کارڈ سے محروم تھے۔
شرائط کے مطابق18 سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کے لیے نکاح نامہ کا موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ والد یا والدہ اور شوہر کا قومی شناختی کارڈ بنا ہونا ضروری ہوگا اور ان کی بائیومیٹرک تصدیق بھی لازمی ہوگی۔
اسی طرح 24 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے والد یا والدہ اور کسی ایک بہن یا بھائی کا شناختی کارڈ بنا ہونا ضروری ہوگا، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق اگر والدین اور شوہر دونوں فوت ہو چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو ایسے کیسز میں بائیومیٹرک تصدیق سے استثنیٰ دیا جا سکے گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سہولت محدود مدت کے لیے فراہم کی گئی ہے اور مقررہ تاریخ کے بعد پالیسی پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔