ماہِ رمضان میں سحری اور افطار کے دوران غیر متوازن خوراک کے استعمال سے تیزابیت، پیٹ میں گیس، بدہضمی، قبض اور پیٹ پھول جانے کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ افطار میں کھانے کی غلط عادت اور پھر فوراً لیٹ جانا اِن مسائل کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہماری روزمرہ غذا میں کئی ایسی اشیاء شامل ہوتی ہیں جو معدے کے مختلف امراض کو جنم دیتی ہیں۔ حکیم نذیر شاہ نے پیٹ میں گیس، بدہضمی اور قبض پیدا کرنے والی غذاؤں اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک میں اکثر افراد سحری اور افطار میں زیادہ کھانا کھا کر فوراً لیٹ جاتے ہیں، جو معدے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھانا ہمیشہ اعتدال میں کھانا چاہیے اور تھوڑی سی بھوک باقی رکھنی چاہیے، تاہم سحری میں مناسب مقدار میں پیٹ بھر کر کھانا ضروری ہے تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ کھانا اچھی طرح چبا کر کھایا جائے تاکہ ہاضمہ بہتر رہے۔
حکیم نذیر شاہ نے معدے کے مسائل کے لیے ایک سادہ گھریلو نسخہ بھی بتایا۔ ان کے مطابق اگر پیٹ میں گیس، بدہضمی، قبض یا اپھارے کی شکایت ہو تو 50 گرام خشک لیموں، 50 گرام انار دانہ، 50 گرام دیسی پودینہ اور 50 گرام سونف لے کر ان سب کو ملا کر باریک پیس لیں اور اس کا پاؤڈر تیار کرلیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سحری اور افطاری کے بعد ایک چائے کا چمچ یہ پاؤڈر پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ ان کے بقول اس نسخے کے کئی فوائد ہیں، جن میں معدے کی تیزابیت، گیس، منہ کا کڑوا پن اور پیٹ کے اپھارے سمیت دیگر تکالیف سے نجات شامل ہے۔
دوسری جانب ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد بدہضمی، گیس اور سینے کی جلن کے علاج کے طور پر سوڈے والے مشروبات کو مؤثر سمجھتے ہیں، تاہم یہ خیال درست نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق کولڈ ڈرنکس میں موجود سوڈا معدے میں پہلے سے موجود تیزابیت کے ساتھ مل کر تیزابیت میں مزید اضافہ کرتا ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی طرح چائے اور کافی میں موجود کیفین بھی معدے کے افعال کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کیفین معدے میں جا کر اس کی کارکردگی کو سست کر دیتی ہے، جس کے باعث ہاضمے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
افطار کے فوراً بعد چائے، کافی یا کولڈ ڈرنکس کا استعمال ہاضمے کے عمل کو مزید سست کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں روزے کے بعد بھی معدے کی جلن اور بدہضمی کی شکایات برقرار رہ سکتی ہیں۔