وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسز میں کمی کرے گی جبکہ بالواسطہ ٹیکسز کی ادائیگی میں چوری روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
پاکستان گورننس فورم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شوگر، سیمنٹ اور تمباکو کے شعبے بالواسطہ ٹیکس کی عدم ادائیگی میں سرفہرست ہیں، ملک میں براہ راست سرمایہ کاری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ جادو منتر سے قرضے ختم نہیں ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً ساڑھے 10 فیصد ہے اور معیشت کی بہتری کے لیے صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اداروں اور کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن جیسے اداروں کے خاتمے سے خزانے پر بوجھ کم ہوا اور کرپشن زدہ اداروں کا خاتمہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 7 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جبکہ 200 ارب روپے کی بجلی چوری کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم اصلاحات کی گئی ہیں، برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اقتصادی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد پر آگیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2023 میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن مشترکہ کوششوں سے معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کیا گیا۔