ذیابیطس ایک دیرپا مرض ہے جس کے باعث بہت سے افراد روزہ رکھنے سے ہچکچاتے ہیں، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹائپ ٹو ذیابیطس قابو میں ہو تو مناسب احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ روزہ رکھا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے سحری اور افطار میں متوازن غذا کے انتخاب اور شوگر لیول کی مسلسل جانچ پر زور دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق وہ افراد جو اپنی ٹائپ 2 ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھتے ہیں، ان کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے پہلے سے تیاری اور خوراک و ادویات کے درست استعمال سے متعلق آگاہی ضروری ہے۔ روزے کے دوران خون میں شوگر کی سطح کم یا زیادہ ہونے کے خطرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی ایک پروگرام کے دوران ماہر صحت نے مشورہ دیا کہ ذیابیطس کے مریض سحری میں گندم اور جو کا آٹا ملا کر روٹی تیار کریں اور اسے پروٹین سے بھرپور سالن کے ساتھ استعمال کریں۔ ان کے مطابق انڈا، مرغی اور دہی جیسے اجزاء سحری میں شامل کیے جاسکتے ہیں تاکہ جسم کو مطلوبہ توانائی مل سکے۔
ماہرِ صحت نے مزید کہا کہ پیاس کی شدت سے بچنے کے لیے تیل اور تلی ہوئی اشیاء سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ اگر میٹھا کھانے کی خواہش ہو تو اسٹیویا پلانٹ، جسے میٹھی تلسی کے پتے بھی کہا جاتا ہے، بہتر متبادل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیویا کے پتوں کو خشک کرکے پیس لیا جائے اور افطار کے بعد لیموں پانی، چائے یا کافی میں چینی کے بجائے اس کا پاؤڈر استعمال کیا جائے تو مثبت نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔
ماہر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذیابیطس کے مریض دن میں کم از کم تین بار اپنا شوگر لیول ضرور چیک کریں؛ پہلی بار سحری کے وقت، دوسری بار افطار سے قبل اور تیسری بار افطار کے بعد، تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بروقت بچا جاسکے۔