سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ پانچ برس کے دوران براہِ راست ریکوری، پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی، تصفیوں اور سرکاری اراضی کی بازیابی کی مد میں مجموعی طور پر 11.56 کھرب روپے وصول کیے۔
جمعہ کو سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ مجموعی وصولیاں 11,565,257.62 ملین روپے رہیں جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نیب کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ سمیت مختلف صوبوں میں دہائیوں سے غیر قانونی قبضے میں موجود وسیع سرکاری اراضی، بشمول جنگلاتی رقبہ، واگزار کرا کے متعلقہ صوبائی حکام کے حوالے کی گئی، جس کی باقاعدہ توثیق بھی کی گئی۔
وزیر قانون کے مطابق 2021 میں نیب نے 16,953.79 ملین روپے کی براہِ راست ریکوری، 48.58 ملین روپے رضاکارانہ واپسی اور 69,289.46 ملین روپے متفرق مد میں وصول کیے۔
2022 میں براہِ راست وصولیاں 3,927.19 ملین روپے رہیں، 10 ملین روپے رضاکارانہ واپسی جبکہ 554.35 ملین روپے دیگر مدات میں وصول کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2025 کے دوران نیب نے 45,002.11 ملین روپے براہِ راست وصول کیے، 50.22 ملین روپے رضاکارانہ واپسی، 38,004.29 ملین روپے تصفیوں کے ذریعے، 10,982,000 ملین روپے مالیت کی سرکاری اراضی کی بازیابی جبکہ 409,417.63 ملین روپے متفرق مد میں وصول کیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے جو اپنے قانونی دائرہ کار میں کام کرتا ہے اور حکومت اس کے امور میں مداخلت نہیں کرتی۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2023 میں احتسابی قوانین میں اہم ترامیم کی گئیں تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے اور احتسابی عمل کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
وزیر قانون نے واضح کیا کہ پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی کا طریقہ کار مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے تحت متعلقہ افراد کو عوامی عہدہ رکھنے سے مخصوص مدت کے لیے نااہلی سمیت دیگر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں نیب کی توجہ عوامی رقوم کی وصولی اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے پر مرکوز رہی ہے۔