وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور ایوانِ بالا نے جارحیت و عسکریت پسندی کے خلاف قومی اتحاد کے اعادے پر مبنی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔
جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایوانِ وفاق کی متفقہ منظوری عوامی خواہشات اور قومی عزم کی توثیق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نازک مواقع پر پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے حالیہ سرحد پار جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان نے مؤثر اور بھرپور جواب دیا تاہم تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کو ضروری حد تک محدود رکھا۔ ان کے مطابق افواجِ پاکستان کسی بھی دشمنانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے خبردار کیا کہ سرحد پار سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو ماضی میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کے مواقع دیے گئے، لیکن اگر جارحیت جاری رہی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر حکومت اور سیاسی قیادت عسکری قیادت کے فیصلوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔
بحث کے دوران سینیٹر علی ظفر نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر ایک میکنزم تشکیل دینے کی تجویز دی۔ اس پر رانا ثناء اللہ نے معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کو بھجوانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دفتر خارجہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے اِن کیمرہ بریفنگ لے کر حتمی فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں دوست ممالک کی جانب سے مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششیں دیرپا نتائج نہ دے سکیں، تاہم اس تجویز کو تعمیری قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرارداد کا واضح پیغام ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اپنی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداء کے اہلِ خانہ کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن ارکان پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات سے الگ رکھا جائے کیونکہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے، مگر قومی سلامتی پر اتحاد سب سے مقدم ہے۔