ماہِ رمضان کے 29 یا 30 دنوں میں مسلمان روزانہ تقریباً 14 سے 15 گھنٹے تک کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں، جبکہ نیند کے اوقات اور روزمرہ معمولات میں بھی واضح تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہی عوامل نظامِ ہاضمہ پر اثر انداز ہوکر قبض سمیت دیگر مسائل کے خطرے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق رمضان کے دوران قبض، پیٹ میں گیس، اپھارہ اور حد سے زیادہ بھرا پن جیسے مسائل کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں فائبر کی کمی، جسمانی سرگرمی میں کمی اور پانی کم پینا اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
2017 میں جرنل آف ریلیجن اینڈ ہیلتھ میں شائع ایک تحقیق میں نشاندہی کی گئی تھی کہ روزہ رکھنے والے افراد میں رمضان کے دوران قبض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اس مسئلے سے بچاؤ ممکن ہے۔
افطار میں اعتدال ضروری
ماہرین کے مطابق افطار کے وقت تیزی سے اور زیادہ مقدار میں کھانا کھانے سے معدے پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں قبض، گیس اور اپھارے جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس کھانے کو اچھی طرح چبا کر اور آہستہ آہستہ کھانے سے معدہ بہتر طور پر کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ کو پیٹ بھرنے کا احساس ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے، اس لیے آہستگی سے کھانا زیادہ مفید ہے۔
فائبر سے بھرپور غذا کو ترجیح دیں
رمضان میں چونکہ دن میں صرف دو بار یعنی سحری اور افطار میں کھانا کھایا جاتا ہے، اس لیے غذائی توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اکثر افراد اپنی روزانہ کیلوریز کا تقریباً 30 فیصد سحری جبکہ 60 فیصد افطار میں حاصل کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری اور افطار میں فائبر سے بھرپور غذاؤں کو شامل کیا جائے۔ روزانہ 15 گرام سے کم فائبر کا استعمال قبض کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ دلیہ، دالیں، تازہ پھل اور گریاں فائبر کے بہترین ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔ فائبر چونکہ ایسا کاربوہائیڈریٹ ہے جو مکمل طور پر ہضم نہیں ہوتا، اس لیے یہ آنتوں کی حرکت کو بہتر بنا کر نظامِ ہاضمہ کو فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
پانی کا مناسب استعمال ناگزیر
ماہرین کے مطابق فائبر مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے پانی کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر فائبر زیادہ اور پانی کم ہو تو قبض کی شکایت برقرار رہ سکتی ہے۔ عام طور پر 6 سے 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم ہر فرد کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔
رمضان میں افطار کے بعد سے سونے تک وقفے وقفے سے پانی پینا مفید قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیشاب کی ہلکی زرد رنگت جسم میں پانی کی مناسب مقدار کی علامت ہوتی ہے، جبکہ گہرا رنگ پانی کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ہلکی جسمانی سرگرمی بھی فائدہ مند
اگرچہ روزے کی حالت میں سخت ورزش مشکل ہوسکتی ہے، تاہم ماہرین ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی کو مفید قرار دیتے ہیں۔ دن میں دو مرتبہ 15 منٹ کی چہل قدمی نظامِ ہاضمہ کو متحرک رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان تدابیر کے باوجود مسئلہ برقرار رہے تو معالج سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ مناسب مشورہ یا علاج فراہم کیا جاسکے۔