رمضان المبارک میں ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ روزے کے دوران خوراک، پانی کے استعمال اور روزمرہ معمولات میں تبدیلی بلڈ پریشر کی سطح پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے اس حوالے سے چند اہم ہدایات جاری کی ہیں تاکہ مریض دورانِ روزہ اپنی صحت کو بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کو رمضان میں ادویات کے معمول میں از خود تبدیلی سے گریز کرنا چاہیے۔ طبی ماہرین کے مطابق افطار کے وقت بلڈ پریشر کی دوا لینے سے پرہیز کیا جائے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ مریض تراویح کے بعد دوا لیں تاکہ اس کا اثر زیادہ مؤثر ثابت ہو۔ اگر کسی دن دوا لینا رہ جائے تو خوراک دوگنی کرنے کے بجائے اگلے دن معمول کے مطابق دوا استعمال کی جائے۔
نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے سحر اور افطار میں نمکین غذاؤں جیسے چپس، پراٹھے اور چٹنی وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ خوراک میں کم نمک استعمال کیا جائے اور سبزیاں اور پھل شامل کیے جائیں جو بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پانی کی کمی بھی بلڈ پریشر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے سحر اور افطار کے دوران مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ افطار سے سحر تک کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور بلڈ پریشر قابو میں رہے۔
طبی ماہرین کے مطابق لو فیٹ دودھ کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ کم چکنائی والا دودھ دل کی صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
رمضان میں ذہنی دباؤ بھی بلڈ پریشر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کم کرنے کے لیے مراقبہ، گہری سانسوں کی مشق اور نماز کی ادائیگی معاون ثابت ہو سکتی ہے، جس سے بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کیا جائے اور اس کے بعد ہلکی اور متوازن غذا لی جائے۔ بھاری اور تلی ہوئی اشیا سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ یہ بلڈ پریشر پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزے کے باوجود ہلکی پھلکی ورزش جیسے چہل قدمی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ روزہ افطار کرنے کے بعد ہلکی ورزش کی جا سکتی ہے، تاہم اس سے قبل معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
نیند کی کمی بھی بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے رمضان میں مناسب نیند کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جسمانی دباؤ کم رہے۔
طبی ماہرین نے یہ بھی زور دیا ہے کہ رمضان کے دوران بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔ اگر بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہائی بلڈ پریشر کے مریض رمضان کے روزے نسبتاً محفوظ انداز میں رکھ سکتے ہیں، تاہم کسی بھی غیر معمولی صورتِ حال میں اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔