ترجمان دفتر خارجہ کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ International Atomic Energy Agency (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ 5 (سی-5) کے لیے پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان سیف گارڈز معاہدے کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے پرامن جوہری توانائی کے استعمال اور عالمی عدم پھیلاؤ و سیف گارڈز کی ذمہ داریوں سے وابستگی پر عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔
چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا یونٹ 5 ایک پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہوگا جس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,200 میگاواٹ ہوگی اور اس کے 2030 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے پر یہ یونٹ قومی گرڈ کو کم کاربن بجلی کی نمایاں مقدار فراہم کرے گا، جس سے توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی اہداف اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
پاکستان اس وقت چھ جوہری بجلی گھر چلا رہا ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3,530 میگاواٹ ہے، جبکہ اوسط پیداواری استعداد 90 فیصد سے زائد ہے۔ گزشتہ برس جوہری توانائی قومی بجلی کے مجموعی مکس کا 18.3 فیصد اور کم کاربن بجلی پیداوار کا 34 فیصد رہی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو جوہری توانائی کے شعبے میں 100 سے زائد ری ایکٹر سال کا تجربہ حاصل ہے اور ملک بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ، مستحکم اور مکمل طور پر سیف گارڈڈ آپریشنز کا مضبوط ریکارڈ رکھتا ہے۔