سینیٹ اور قومی اسمبلی نے نیب ترمیمی بل منظور کرلیا، بل کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج کیا گیا۔
نیب ترمیمی بل 2026 اب صدر مملکت کو دستخطوں کے لیے بھیجا جائے گا۔
بل میں وفاقی حکومت کو چیئرمین نیب کی مدت میں مزید 3 سال توسیع کا اختیار دینے اور احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اپیلوں کو شامل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
بل کے متن کے مطابق نیب مقدمات میں مالی حد ہر سال منہگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز ہے، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے انفلیشن انڈیکس کے مطابق مالی حد مقرر ہوگی۔
سینیٹ میں بل سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پرائیوٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کی حمایت وفاقی وزیر قانون اعظم نصیر تارڑ نے کی۔ اجلاس کے دوران ہونے والے ہنگامے پر سینیٹ کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر اجلاس میں شائستگی برقرار نہ رہی تو سیشن ملتوی کردیا جائے گا۔
بل کی ایک اہم شق کے تحت نیب چیئرمین کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع ممکن ہوگی، جس پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورتی عمل کو نظر انداز کرتا ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بل کی منظوری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ پرائیوٹ ممبر بل تھا، اس لیے خزانہ اسے ”مثبت تبدیلیوں“ کے لیے سپورٹ کر رہا تھا اور اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا نہیں جاسکتا۔ بل کی منظوری کے بعد بھی اپوزیشن نے توسیع کی شق کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔