وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں تحریری رپورٹ پیش کی ہے جس میں پاکستان ریلوے کے ٹریکس کی خراب حالت کا اعتراف کیا گیا ہے۔
وزیر کے مطابق پاکستان ریلوے 7,791 کلومیٹر مین روٹس اور 11,881 کلومیٹر ٹریکز کا انتظام کرتا ہے، لیکن زیادہ تر ٹریکس اپنی متعین مدت سے تجاوز کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مین لائن ون (پشاور تا کراچی) کے 72 فیصد، مین لائن ٹو (اٹک تا کوٹری) کے 88 فیصد اور مین لائن تھری (روہی تا تفتان) کے 92 فیصد ٹریکس اپنی عمر سے زیادہ استعمال ہوچکے ہیں۔ برانچ لائنز جو 3,840 کلومیٹر پر محیط ہیں، ان میں سے 98 فیصد ٹریکس کی عمر ختم ہو چکی ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ خراب ٹریکس پر حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اسپیڈ ریسرکشنز نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹریک کی مرمت کے ساتھ ساتھ متعدد ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔