روزے کے دوران ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچا جائے؟ ماہرینِ صحت نے بتا دیا

image

رمضان المبارک میں روزے کے باعث کھانے پینے کے اوقات، پانی کی مقدار اور روزمرہ معمولات میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے، جس کے باعث ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے مریضوں کو اپنی صحت کے حوالے سے خصوصی احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق مناسب غذا، ادویات کے درست استعمال اور متوازن طرزِ زندگی کے ذریعے روزوں کے دوران بلڈ پریشر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رمضان کے پورے روزے رکھنا ایک روحانی عمل ہے تاہم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ معمول برقرار رکھنا بعض اوقات مشکل ہو سکتا ہے۔ دن بھر روزہ رکھنے اور کھانے اور سونے کے نظام الاوقات میں تبدیلی کے باعث بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق رمضان میں ادویات کے استعمال کے معمولات کو منظم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ مریضوں کو چاہیے کہ دوا لینے کے اوقات میں بلا ضرورت تبدیلی نہ کریں۔ بعض ماہرین کے مطابق افطار کے فوراً بعد دوا لینے کے بجائے تراویح کے بعد دوا لینا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی دن دوا لینا بھول جائیں تو اگلی خوراک دوگنی کرنے سے گریز کیا جائے اور معمول کے مطابق اگلے دن دوا استعمال کی جائے۔

غذائی عادات بھی بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے سحر اور افطار کے دوران چپس، پراٹھے، چٹنیاں اور دیگر نمکین اشیا کم سے کم استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے تازہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا کو خوراک کا حصہ بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق پانی کی کمی بھی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے افطار سے سحر کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ طبی ماہرین کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی تجویز دیتے ہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

اسی طرح کم چکنائی والا دودھ (لو فیٹ دودھ) بھی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم اور غذائیت زیادہ ہوتی ہے، جو دل کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق رمضان کے دوران ذہنی دباؤ سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ اسٹریس بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ مراقبہ، گہری سانسیں اور عبادات ذہنی سکون فراہم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

افطار کے وقت کھانے کا آغاز کھجور اور پانی سے کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد ہلکی اور متوازن غذا کا استعمال کیا جائے۔ زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

روزے کے دوران ہلکی جسمانی سرگرمی بھی مفید رہتی ہے۔ افطار کے بعد مختصر چہل قدمی یا ہلکی ورزش بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ مناسب نیند بھی صحت کے لیے نہایت اہم قرار دی جاتی ہے کیونکہ نیند کی کمی بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رمضان کے دوران بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طبی مشورہ لیا جا سکے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں تو رمضان کے روزے بغیر کسی بڑی پریشانی کے رکھے جا سکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US