وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ معصوم بچوں اور عبادت گاہوں میں نمازیوں کو نشانہ بنانے والے عناصر اس حد تک جا سکتے ہیں کہ اسپتالوں میں مریضوں کو نقصان پہنچا کر اس کا الزام پاکستان پر ڈالیں تاکہ عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے روابط افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں اور حالیہ کارروائیاں انہی دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سہولیات کے خلاف کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ہر صورت ختم کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے اسپتال پر حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں اسلحہ موجود تھا جس کے باعث دھماکے ہوئے، جو کارروائی کی درستگی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن غضب للحق کے اہداف صرف دہشتگردوں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہیں اور اس کا مقصد عام شہریوں یا شہری مقامات کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں۔