گرمی کے موسم میں رات بھر پنکھا چلا کر سونا ایک عام عادت ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی وابستہ ہیں، جن کا انحصار اس کے استعمال کے طریقے پر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پنکھا کمرے میں ٹھنڈک پیدا کرنے، ہوا کی گردش بہتر بنانے اور ہلکی آواز کے ذریعے پرسکون ماحول فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے، جو کئی افراد کے لیے بہتر نیند کا باعث بنتا ہے۔ یہ اثر خاص طور پر اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب پنکھا براہِ راست بستر کے سامنے رکھا جائے یا کمرے میں نمی کی سطح کم ہو۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل تیز ہوا جلد، آنکھوں اور حلق کی خشکی کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب پنکھا براہِ راست چہرے یا جسم کی طرف ہو۔ اس کے علاوہ پنکھا کمرے میں موجود گرد و غبار اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات کو بھی پھیلا سکتا ہے، جس سے چھینکیں، ناک بند ہونا اور گلے میں خراش جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، خصوصاً دمہ یا الرجی کے مریضوں میں۔
مزید برآں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ براہِ راست ٹھنڈی ہوا میں سونے سے پٹھوں میں اکڑاؤ، گردن اور جسم میں درد بھی ہوسکتا ہے۔ رات بھر پنکھے کی سیدھی ہوا لگنے سے پٹھے ٹھنڈے ہو کر سخت ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جاگنے پر جسم میں اکڑن محسوس ہوتی ہے۔ یہ کیفیت خون کی گردش میں کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ان مسائل سے بچنے کے لیے پنکھے کی سمت کو درست رکھا جائے تاکہ ہوا براہِ راست جسم پر نہ پڑے بلکہ کمرے میں گردش کرے۔ اس کے علاوہ کمرے اور بستر کی صفائی کا خیال رکھنا، پنکھے کے بلیڈ باقاعدگی سے صاف کرنا اور سوتے وقت مناسب کپڑے پہننا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پنکھے کا درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ گرمی میں آرام دہ اور پرسکون نیند کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔