لاس اینجلس کی عدالت نے تاریخی فیصلے میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی کمپنیوں، میٹا اور گوگل پر نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے جرم میں مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت گزشتہ کئی روز سے جاری تھی، جس میں جیوری کے درمیان ابتدائی طور پر اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا تھا، تاہم جج کیرولین بی کوہل کی ہدایت پر دوبارہ غور و خوض کے بعد جیوری نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق، عدالت نے میٹا اور گوگل کو ایک 20 سالہ خاتون کی ذہنی صحت بگڑنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جیوری نے فیصلے میں واضح کیا کہ ان کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز (انسٹاگرام اور یوٹیوب) کو ڈیزائن کرنے میں پیشہ ورانہ غفلت برتی اور ایسے فیچرز شامل کیے جو صارفین کو اپنا عادی بناتے ہیں۔
عدالت نے جرمانے کی رقم میں سے 30 لاکھ ڈالر تلافی کے طور پر اور 30 لاکھ ڈالر تعزیری ہرجانے کے طور پر مقرر کیے ہیں، جس میں میٹا کو 70 فیصد اور گوگل کو 30 فیصد نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے اپنے دعوے میں موقف اختیار کیا تھا کہ کم عمری میں ان ایپس کے بے جا استعمال نے انہیں ڈپریشن اور شدید بے چینی جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا تھا۔
عدالت نے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ کمپنیاں اپنے صارفین کو ایپس کے استعمال سے وابستہ ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب دنیا بھر میں ٹیک کمپنیوں کے خلاف دائر ہزاروں دیگر مقدمات کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور یہ مستقبل میں سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔