برازیل نے دفاعی ہوا بازی کی دنیا میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں پہلی بار ملک کے اندر تیار ہونے والا سپرسانک لڑاکا طیارہ پیش کر دیا ہے، جسے ملکی دفاعی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برازیل کے شہر گاویاو پیکسوٹو میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران 'گریپن' ماڈل کے اس جدید طیارے کی رونمائی کی گئی، جسے پہلی بار مکمل طور پر برازیل میں اسمبل کیا گیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد برازیل لاطینی امریکا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جو سپرسانک لڑاکا طیارہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ سن 2014 میں سویڈن کی دفاعی کمپنی ’صاب‘ (Saab) کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کا نتیجہ ہے، جس کے تحت برازیل نے اپنے پرانے جنگی بیڑے کو جدید بنانے کے لیے امریکی اور فرانسیسی طیاروں کے مقابلے میں سویڈش ٹیکنالوجی کو ترجیح دی تھی۔
اس دفاعی اشتراک کی سب سے اہم خصوصیت ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے، جس کی بدولت برازیل کو کل 36 طیاروں میں سے 15 طیارے مقامی سطح پر تیار کرنے کا موقع ملا ہے۔ سویڈش کمپنی کے مطابق، یہ ان کی 90 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی لڑاکا طیارہ سویڈن سے باہر کسی دوسرے ملک میں تیار کیا گیا ہے۔
اس سنگ میل کی بدولت برازیل اب امریکا، روس، فرانس، بھارت اور چین جیسے ان مخصوص ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جو جدید ترین جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
برازیل میں قائم یہ پروڈکشن لائن نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرے گی بلکہ مستقبل میں دیگر ممالک، بالخصوص کولمبیا جیسے ہمسایہ ممالک کو طیارے برآمد کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی برازیل کی فضائی صنعت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا ثبوت ہے، جہاں ایمبریئر کا تیار کردہ C-390 کارگو طیارہ پہلے ہی عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہا ہے۔