چین نے ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منفرد کارنامہ انجام دیتے ہوئے پہاڑی سفر کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ ملک میں دنیا کا طویل ترین آؤٹ ڈور ایسکلیٹر سسٹم نصب کر دیا گیا ہے، جس نے گھنٹوں پر محیط سفر کو چند منٹوں تک محدود کر دیا ہے۔
یہ حیران کن منصوبہ ووشان میں مکمل کیا گیا جہاں 905 میٹر طویل ووشان گاڈیس ایسکلیٹر تعمیر کیا گیا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث یہ علاقہ طویل عرصے سے سفری مشکلات کا شکار تھا، تاہم اس جدید نظام نے شہریوں اور سیاحوں کے لیے نئی سہولت فراہم کر دی ہے۔
یہ سسٹم صرف ایک ایسکلیٹر تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل عمودی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے جس میں 21 ایسکلیٹرز، 8 لفٹس، 4 موونگ واک ویز، 2 پیدل پل اور 2 کراس لائن راستے شامل ہیں، جو پہاڑ کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے پر کئی دہائیوں تک غور کیا جاتا رہا۔ اس کا ابتدائی تصور 2002 میں پیش کیا گیا تھا تاہم مالی اور تکنیکی مسائل کے باعث اس پر عملدرآمد مؤخر ہو گیا۔ بعد ازاں 2022 میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور شہری ضروریات کے پیش نظر اس منصوبے کو دوبارہ شروع کیا گیا۔
حکام نے اس دوران کیبل کار، ریل سسٹم اور سیاحتی ٹرین جیسے مختلف آپشنز پر غور کیا لیکن بالآخر ایسکلیٹر سسٹم کو زیادہ محفوظ، کم لاگت اور پہاڑی ماحول کے لیے موزوں حل قرار دے کر منتخب کیا گیا۔
اس جدید منصوبے میں شیشے کی دیواریں بھی نصب کی گئی ہیں تاکہ مسافر سفر کے دوران پہاڑوں اور دریا کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس کے علاوہ راستے میں تین ویونگ پلیٹ فارمز اور 360 ڈگری ویو پوائنٹ بھی شامل کیے گئے ہیں۔