چرچ آف پاکستان کے ڈائیوسیس آف کراچی اینڈ بلوچستان نے 13 سالہ مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے کیس میں وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون اور آئین کے منافی قرار دے دیا ہے۔
بشپ آف کراچی اینڈ بلوچستان، بشپ فریڈرک جان اور ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سابقہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں کم عمری کی شادی کی سہولت کاری کے لیے نابالغ بچوں کا قبولِ اسلام غیر قانونی ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 20 اور 36 میں دی گئی ضمانتوں پر حملہ ہے۔
چرچ آف پاکستان نے اٹارنی جنرل اور حکومت پنجاب سے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی تمام صوبوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے قوانین میں بلوچستان چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کی طرز پر ترامیم کریں، جو کم عمری کے نکاح کو ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیتے ہیں۔
ڈائیوسیس آف کراچی اینڈ بلوچستان نے اپنے تمام پادریوں اور میرج رجسٹرارز کو 18 سال سے کم عمر کی شادی منعقد کرنے پر سختی سے پابندی عائد کر دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرسچن میرج ایکٹ 1872 میں بھی ضروری ترامیم کی جائیں تاکہ کم عمری کی شادیوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔