پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ مرض اب مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی اور بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جبکہ ملک کے تقریباً 79 فیصد افراد اپنی ایچ آئی وی اسٹیٹس سے لاعلم ہیں۔
سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بچوں میں بڑھتے ہوئے کیسز کو نظامِ صحت کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ آئی وی اب خطرناک حد تک عام آبادی تک پھیل چکا ہے۔
ماہر صحت ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق غیر محفوظ انجیکشنز اور آلودہ خون اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بار بار سامنے آنے والے آؤٹ بریکس کو نظامِ صحت کی کمزوری قرار دیا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ بلڈ بینکس کی سخت نگرانی، خون کی مکمل اسکریننگ، غیر محفوظ انجیکشنز کے خاتمے اور انفیکشن کنٹرول کے مؤثر نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں ایچ آئی وی سے متعلق مریضوں کا باقاعدہ ڈیٹا دستیاب نہیں ہے، جبکہ بینظیر بھٹو اسپتال میں قائم ایچ آئی وی سینٹر بھی غیر فعال ہے۔ ذرائع کے مطابق وہاں ایچ آئی وی مریضوں کے لیے کوئی مستقل ڈاکٹر بھی تعینات نہیں کیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈیش بورڈ کی خرابی کے باعث مریضوں کا ریکارڈ جاری نہیں ہو سکا، تاہم اڈیالہ جیل میں گزشتہ سال 148 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایچ آئی وی مریضوں سے متعلق مکمل اعداد و شمار جلد جاری کیے جائیں گے۔