ترجمان دفتر خارجہ کے نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تعینات پاکستان کے ناظم الامور کو افغان وزارت خارجہ نے طلب کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو حاصل سہولت کاری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے کسی بھی افغان علاقے، خصوصاً کنڑ میں تعلیمی اداروں پر حملے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے ایسے کسی حملے میں ملوث ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اس نوعیت کے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا مطلب صرف روایتی جنگ بندی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کے حملوں، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہوں یا دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔