سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ شاہراہ بھٹو کراچی کے لیے ایک اہم اور گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا، جبکہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لیے حکومت نے سخت فیصلے کیے ہیں۔
بی آر ٹی ریڈ لائن کے دورے کے موقع پر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لاٹ 1 اور لاٹ 2 پر کام تیزی سے جاری ہے، اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو ذمہ داری ملنے کے بعد کام کی رفتار میں مزید بہتری آئی ہے۔
شرجیل میمن نے اعتراف کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں گیس، بجلی اور پانی کی لائنوں کی منتقلی فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جولائی کے آخر تک کم از کم مکسڈ ٹریفک لین کو کھول دیا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
صوبائی وزیر کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ صرف بسوں کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ آئندہ 100 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے لیے جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی آر ٹی کی دیگر لائنز، بشمول اورنج اور یلو لائنز پر بھی کام جاری ہے، جبکہ شارع بھٹو جیسے منصوبے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں بنیادی تبدیلی لائیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی ایک بڑا اور پیچیدہ شہر ہے جہاں چیلنجز زیادہ ہیں، لیکن حکومت تمام منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی سے متعلق گزشتہ چار سال کے معاملات پر وہ جلد پریس کانفرنس کریں گے اور تمام امور عدالتوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا، تاہم منصوبوں پر کام کسی صورت نہیں رکے گا۔