پاکستان کی سیاست کی تاریخ کی سب سے ہوشربا کرپشن کی کہانی‼️‼️

image

🔺کہانی شروع ہوتی ہے 2005 میں جب OIC سمٹ کے پیش خیمہ پر اسلام آباد میں معیاری فائیو اسٹار ہوٹل کی ضرورت پڑی۔ CDA نے بیک وقت دو پرائم لوکیشنز کو لیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پرائم لوکیشن کونسٹیٹیوشنل ون ایونیو پر فائیو اسٹار ہوٹل بننا تھا اور دوسری جگہ سینٹورس مال کی تھی۔

▪️کانسٹیٹیوشنل ون تھی تو پرائم لوکیشن لیکن یہاں صرف فائیو اسٹار ہوٹل بننے کے اشتہار لگے اس لیے اس کی لیز کی قیمت 75,000 روپے فی مربع گز مقرر ہوئی۔ کل رقبہ 13.5 ایکڑ یعنی 65,340 گز جس کی قیمت 4.9 ارب بنتی ہے۔

▪️سینٹورس مال نسبتاً کم پرائم لوکیشن تھی لیکن اس کی لیز 190,000 فی مربع گز ہوئی جو 13.5 ایکڑ کے حساب سے 12.4 ارب یعنی کونسٹیٹیوشنل ایونیو سے تقریباً 7.5 ارب زیادہ تھی۔

🔺کونسٹیٹیوشنل ایونیو کی جگہ تین لوگوں نے مل کر لی۔ جن کا لیڈر فیصل آباد کی بسم اللہ ٹیکسٹائل کا مالک حفیظ پاشا تھا اور نادرہ ٹیکسٹائل کا مالک میاں عمران اور پیراگون سوسائٹی کا مالک خواجہ سعد رفیق پارٹنر تھے۔

🔺پاکستان کی ہوٹل انڈسٹری کا کنگ ہاشوانی صاحب بھی لیز بڈنگ میں شامل ہوئے لیکن انہیں اس قیمت پر لیز منافع بخش نہ لگی پر نا تجربہ کار مل مالک ہوٹل بنانے میں پیش پیش رہے کیونکہ شروع سے ان کا ارادہ ہوٹل بنانے کا نہیں تھا۔

🔺خیر پاشا گروپ نے بڈ جیتی اور صرف 15 فیصد ادائیگی کے بعد جگہ پر کام شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں حفیظ پاشا کا کارخاص و فرنٹ مین اچانک سے CDA میں ڈائریکٹر لیگل تعینات ہوجاتا ہے اور تعیناتی کے فوراً بعد لیز ایگریمنٹ میں ردوبدل کر کے ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹ بنانے کی اجازت دے دیتا ہے۔

🔺ہاشوانی صاحب کو جب پتہ چلتا ہے کہ ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹ بن رہے ہیں تو وہ عدالت میں اس کے خلاف کیس کر دیتے ہیں۔ جس پر CDA نوٹس لیتا ہے اور اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ حفیظ پاشا کو تحریری نوٹس بیجھتے ہیں جس کے جواب میں پاشا کہتا ہے کہ وہ ہوٹل ہی تعمیر کر رہا ہے۔

🔺حفیظ پاشا تعمیر بھی اپنے پیسوں سے نہیں کرتا بلکہ اس کو بینک آف پنجاب سے بلاسود (Zero mark up) پر اربوں کا قرضہ بھی مل جاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپارٹمنٹ کو مارکیٹ میں بیچنا بھی شروع کردیتا ہے۔

🔺بڑے بڑے سیاست دان، جج، بیوروکریٹ اور صحافی یہاں فلیٹ خریدتے ہیں۔ چند پردہ نشینوں کو تو یہاں مفت میں فلیٹ ملتے ہیں۔ ▪️اعتزاز احسن صفر روپے میں مالک ▪️سابقہ چیف جسٹس و نگراں وزیر اعظم ناصر الملک بھی فری میں مالک۔ ▪️شاہد خاقان عباسی بھی گفٹ میں مالک۔ ▪️سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار بھی مفت خور مالک۔ ▪️چند منظور نظر صحافی جن میں ابصار عالم سرفہرست ہیں بھی مفت خور نکلے۔

🔺اسی دوران حفیظ پاشا خواجہ سعد رفیق اور میاں عمران کو پیسے ادا کرکے پورا مالک بن گیا۔ سعد رفیق کے پاس 8 فلیٹ بھی ہیں۔ 🔺حفیظ پاشا مالک صرف پوری رقم ادا کر کے بن سکتا تھا لیکن اس نے ابھی تک صرف 15 فیصد رقم ادا کی اور 2019 سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 14.5 ارب کا نادہندہ ہے۔ بحر کیف اگر وہ پوری رقم ادا بھی کر دیتا وہ یہ فلیٹ آگے بیچ نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ جگہ لیز پر تھی پھر بھی اس نے اسے اشرافیہ کو بیچنا شروع کیا۔

🔺اس جگہ دو بیڈ روم فلیٹ 5 لاکھ ڈالر یعنی 13.5 کڑور روپے اور تین بیڈ روم فلیٹ 75 سے 100 کڑور روپے میں فروخت ہوئے۔ کل 263 فلیٹ ہیں۔ مطلب 13 کے حساب سے بھی 3ہزار 419 کڑور روپے کمائے گئے۔

🔺تاہم اس بڑی مچھلی پر پولیس کے چند فرض شناس افسران نے تحقیقات کی لیکن مفت میں پلاٹ پانے والے شاہد خاقان جب وزیراعظم بنا اس نے ان تمام افسران پر انکوائری کھول کر انہیں ہی مجرم بنا دیا۔

🚨بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی، قدرت نے میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا۔ جنہوں نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف انکوائری کا حکم دیا بلکہ CDA کی پوری تائید کی اور جگہ کو وگزار کرانے کے احکامات دیے۔ اب پاکستان کی عوام کا میاں شہباز شریف سے دیرینہ مطالبات ہیں۔ ▪️اس غیر قانونی بلڈنگ کے تمام فلیٹ مالکان کی لسٹ پبلک کی جائے تاکہ پردہ نشین عوام کے سامنے ہوں۔ ▪️جن جن شہزادہ گلفاموں کو مفت میں فلیٹ دیے گئے ان کے نام بھی پبلک کیے جائیں۔ ▪️تمام مالکان کے انکم ٹیکس گوشواروں میں چیک کیا جائے کہ آیا یہ فلیٹ شامل کیے گئے اور اگر کیے گئے تو ان کی قیمت کیا لکھوائی گئی۔ ▪️جج صاحب نے تو فلیٹ مالکان کو معاوضہ کا کہا لیکن جس نے یہ فلیٹ غیر قانونی ہوتے ہوئے بھی خریدے تو پھر معاوضہ کاہے کا۔ اگر مڈل کلاس لوگوں کا نیسلا ٹاور گرایا جاسکتا ہے تو پھر یہ کیوں نہیں؟۔ یہ تمام فلیٹ بحق سرکار ظبط ہونے چاہیں۔ ▪️جن جن فرض شناس افسران نے اس پورے کیس کی تفشیش کی ان سب کو سرکاری انعامات سے بھی نوازا جائے اور ان کو میڈلز بھی دیے جائیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US