سینیٹ نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2026 کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوگیا ہے۔
ترمیمی بل کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی اب نجی شعبے سے بھی کی جاسکے گی، جبکہ ڈی جی کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ وزیراعظم کو اس مدت میں مزید دو سال کی توسیع دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کے تحت اتھارٹی کے بورڈ میں دفاعی ڈویژن کے نمائندے کی شمولیت کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں بورڈ اجلاس بلائے بغیر سرکولیشن کے ذریعے فیصلے کرنے کی اجازت بھی شامل کی گئی ہے۔
قانون میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے نئی شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت پی اے اے کے افسران کو اپنی ملازمت کے دوران کسی بھی ایوی ایشن کمپنی میں مالی مفاد رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی افسران پر دو سال تک کاروباری سرگرمیوں کی پابندی برقرار رہے گی۔
ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی کے اہم فیصلے اب سرکاری گزٹ کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ پر بھی جاری کیے جاسکیں گے، جبکہ ادارے کے انتظامی اور مالی اختیارات میں بھی مختلف تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے ڈھانچے میں اصلاحات کی منظوری بھی اس بل کا حصہ ہے۔