فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں مبینہ غیرقانونی ردوبدل کے ذریعے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے کا سراغ لگا لیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے کے دوران 85 ٹیکس دہندگان کی جانب سے ٹیکس سال 2014 سے 2019 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں بعد ازاں تبدیلیاں کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ افراد نے مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران اپنے پرانے گوشواروں میں نقدی، سونا، پرائز بانڈز، جائیداد اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت اصل ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ کے پانچ سال بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں نظرثانی نہیں کی جاسکتی، تاہم سامنے آنے والے تمام کیسز میں مقررہ مدت گزرنے کے بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں تبدیلیاں کی گئیں۔
ایف بی آر کے مطابق لاہور سے سامنے آنے والے ایک کیس میں ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے مبینہ فرضی فنڈز ظاہر کیے۔ بعد ازاں یہ رقم 2025 تک مختلف ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں منتقل کی جاتی رہی اور اسی رقم کی بنیاد پر مئی اور جون 2026 میں 7 جائیدادیں خریدی گئیں۔
محکمہ ریونیو کے مطابق مذکورہ 7 جائیدادوں کی مجموعی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران ٹیکس دہندہ مبینہ فرضی فنڈز کے ذرائع کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ لاہور کے اس ایک کیس میں مبینہ طور پر 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس چوری کی کوشش کی گئی۔
ایف بی آر کے مطابق ملک بھر میں اس معاملے پر 48 فوجداری تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جبکہ دیگر کیسز میں بھی کارروائی جاری ہے۔ لاہور کے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مبینہ فراڈ میں معاونت کرنے والے دیگر افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔