وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک میں جب بھی احتساب کا عمل ہوا تو زیادہ تر سیاستدانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بیوروکریسی کو اس سے نسبتاً کم یا مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں احتساب کے دوران ہمیشہ سیاسی شخصیات کو گرفتار کیا گیا، جبکہ بیوروکریٹس کے حوالے سے ایسا کوئی نمایاں اقدام سامنے نہیں آیا۔
وزیر دفاع نے ایک اور حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو آرمی چیف کے تقرر کے لیے پانچ نام دیے گئے تھے جن میں سے چار کی سفارش موصول ہوئی، تاہم اس وقت جنرل راحیل شریف کے حوالے سے کوئی سفارش نہیں آئی تھی، اسی بنیاد پر ان کی تعیناتی عمل میں آئی۔
خواجہ آصف نے اپنی ذاتی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ دورانِ قید انہیں طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ان کے مطابق بعض حلقے اسے ڈرامہ سمجھتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تجربات کے دوران سیاسی صورتحال اور رویوں نے کئی سوالات کو جنم دیے۔