پنجاب حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ تمام سرکاری محکموں سے بجٹ تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے اور بعض سروسز پر ٹیکس کی شرح میں رد و بدل کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر، صفائی ستھرائی، زراعت، امن و امان اور عوام کو سستی خوراک کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کے بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 6 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1500 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاقی حکومت کے مساوی اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت ساڑھے 4 ٹریلین روپے سے زائد فنڈز موصول ہونے کی توقع ہے۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ جون کے دوسرے ہفتے میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ پیش کریں۔