پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اضافی چینی کی برآمد کے معاملے پر کابینہ کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے تاکہ ملکی ضرورت سے زائد چینی کی برآمد کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکے۔
چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ شوگر انڈسٹری نے رواں کرشنگ سیزن کے دوران ملکی ضرورت سے زیادہ چینی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق ایک ماہ کے اسٹریٹجک ذخائر محفوظ رکھنے کے باوجود ملک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ ٹن چینی اضافی موجود ہوگی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان کو تقریباً 500 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ذکا اشرف کے مطابق اس وقت چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے بھی کم سطح پر ہیں، جبکہ بڑے ذخائر برقرار رکھنے کے باعث شوگر انڈسٹری کو مالی مشکلات اور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کرشنگ سیزن میں بھی گنے کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے، جس کے پیش نظر اضافی چینی کی برآمد ناگزیر ہوچکی ہے۔
چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ کابینہ کمیٹی کا اجلاس جلد منعقد کیا جائے اور اس میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وفد کو بھی شرکت کا موقع فراہم کیا جائے۔