لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ کسی بھی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے اپنے نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے (خرچہ) کا حق ختم نہیں کر سکتا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اس کیس میں تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ کی اپیل خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے تمام فیصلے برقرار رکھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جبکہ 2005 میں طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں کی ثالثی سے ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت باپ نے بچے کے نان نفقے کی مد میں 60 ہزار روپے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس معاہدے کے بعد دوبارہ نان نفقے کا دعویٰ دائر نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مالی مشکلات یا نجی معاہدہ باپ کی قانونی ذمہ داری ختم نہیں کرتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ کی مستقل قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے اور یہ ایک ایسا قابلِ نفاذ حق ہے جسے کسی معاہدے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر ایک قابلِ نفاذ قرض کی حیثیت رکھتا ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھجوانے کا حکم دیا ہے۔