’ایک فیصد‘ چانس اور ’ٹینگو ڈانس‘: کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں تعطل کسی سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے؟

9 اپریل کو جب فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر راضی ہوئے تب سے لے کر آج تک براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے باوجود نہ تو جنگ بندی میں توسیع کا کوئی معاہدہ ہو سکا ہے اور نہ ہی جنگ دوبارہ شروع ہوئی ہے۔
طرح گرافیکیروی دیوار/ ایران و آمریکا در حال دست دادن
Getty Images

ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً دو ماہ سے جنگ بندی جاری ہے۔ 9 اپریل کو جب فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر راضی ہوئے تب سے لے کر آج تک براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے باوجود نہ تو جنگ بندی میں توسیع کا کوئی معاہدہ ہو سکا ہے اور نہ ہی جنگ دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول دونوں ملک ’دو افراد کا ٹینگو ڈانس‘ کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کی اس مدت کے دوران امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کی جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض حصوں پر قبضہ کیا اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی حملے کیے۔

ایران اور امریکہ ایک دوسرے پر بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں تاہم ان تمام اقدامات اور حملوں کے باوجود مکمل جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کی تعریف بدل چکی ہے اور ’جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ آپ قدرے نرمی کے ساتھ حملے جاری رکھتے ہیں۔‘

11 مئی کو امریکی صدر نے اعلان کیا کہ جنگ بندی انتہائی نازک صورتحال پر پہنچ گئی ہے اور اب یہ ’عملاً وینٹی لیٹر پر ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ جنگ بندی قائم رہنے کے امکانات محض ’ایک فیصد‘ ہیں۔

تاہم اس کے ایک ہفتے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے والے تھے لیکن خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر انھوں نے اس حملے کو مؤخر کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے اس فیصلے کو بھی تین ہفتے گزر چکے ہیں، اور اب بھی یہ ’ایک فیصد‘ جنگ بندی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکے ہوئے ہے جبکہ دونوں فریق یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک غیر تحریری جنگ بندی برقرار ہے اور مذاکرات بھی کسی نہ کسی طرح جاری ہیں۔

اب ایرانی میڈیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ’تعطل کا شکار جنگ بندی‘ کے متعلق باتیں سنائی دے رہی ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر ’لفظی گولہ باری‘ جاری ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں ہی خود کو اس جنگ کا ’فاتح‘ قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ مذاکرات میں ان کا پلڑا بھاری ہے اور وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بظاہر ایسا کوئی حل جس میں دونوں کی جیت ہو اب فریقین کے ایجنڈے کا حصہ نظر نہیں آتا۔

رعایت دینے کو ’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف لیا جانے لگا ہے اور یہ سب ایسے کھیل کی یاد دلاتا ہے جس میں فتح کسی ایک کی ہی ہو سکتی ہے۔ اس سوچ نے جنگ بندی کو مزید الجھا دیا ہے اور نتیجتاً دونوں ملک ایسی صورتحال میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔

جنگ بندی تعطل کا شکار کیسے ہوئی؟

بین الاقوامی تعلقات کے لٹریچر میں، جب جنگ کے خاتمے کا راستہ واضح نہ ہو اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچیں، تو ایسی صورتحال کو ’تزویراتی تعطل‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں فریق نہ تو ایک دوسرے پر فیصلہ کن فتح حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی سمجھوتے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ایسے میں جنگ ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی صرف شکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ براہِ راست اور شدید تصادم کے بجائے یہ محدود کشیدگی، چھوٹے پیمانے کے تنازعات اور بالواسطہ مقابلہ آرائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ایسی کیفیت میں جنگ جاری رکھنا مہنگا پڑتا ہے مگر رعایت دے کر اسے ختم کرنا دونوں فریقوں کو زیادہ مہنگا محسوس ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جو جنگ اور امن کے درمیان معلق رہتی ہے جسے نہ مستقل جنگ بندی کہا جا سکتا ہے اور نہ مکمل جنگ کا آغاز۔

ایران اور امریکہ کے درمیان یہ تعطل 40 روزہ جنگ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے روایتی تنازعات کے برعکس، یہ جنگ نہ تو کسی واضح شکست پر ختم ہوئی اور نہ ہی کسی ٹھوس سیاسی معاہدے پر منتج ہوئی۔

امریکہ نے فوجی دباؤ بڑھانے اور بحری محاصرے کے ذریعے اقتصادی پابندیوں کو سخت کرنے پر زور دیا، جبکہ ایران نے مزاحمت کی اپنی صلاحیت اور رعایت نہ دینے کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی فتح کا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب سفارت کاری بھی ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اور بحران کو حل کرنے کے بجائے خود اس تعطل کا حصہ بن گئی ہے، اور ایسے ماحول میں جنگ بندی ایک ’حکمتِ عملی کے تحت وقفہ‘ بن کر رہ گئی۔

ادھر یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ دونوں فریق زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کر کے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شعوری طور پر مذاکرات کو بند گلی میں لے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تعطل حقیقی نہ ہو بلکہ کسی حکمت عملی کا نتیجہ ہو۔

اس مفروضے کی تائید یا تردید کے لیے ایک جانب ایسے شواہد موجود ہیں کہ یہ تعطل جزوی طور پر غیر ارادی ہے اور دونوں فریقوں کو حائل حقیقی مشکلات کا نتیجہ ہے۔ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ بھاری قیمت ادا کیے بغیر صورتِ حال کو اپنے حق میں تبدیل کر لے۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ’حقیقی‘ تعطل ہے۔

جنگ دو کره/
Getty Images
ادھر یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ دونوں فریق زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کر کے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شعوری طور پر مذاکرات کو بند گلی میں لے گئے ہیں۔

تاہم دوسری جانب ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ دونوں فریق جان بوجھ کر ایسی صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ امریکہ کے لیے ایسی صورتحال جس میں ’نہ بھرپور جنگ ہو نہ ہی امن‘ ہو فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک جانب وہ بحران کو شدت اختیار کرنے سے روک سکیں گے اور دوسری جانب بحری محاصرے کے ایرانی معیشت پر اثرات کے باعث ایران کو کمزور ہو کر جھکنے کا انتظار کرنے کا موقع ملے گا۔

ایرانی حکومت کے لیے بھی یہ صورتحال اپنے اقتدار کی بنیاد کو مستحکم کرنے اور عسکری سازوسامان کو بحال کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

لہٰذا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ’تزویراتی تعطل‘ درحقیقت فریقین کو درپیش مسائل، ان کے اندازوں اور انتخابات کا مجموعہ ہے۔ اس تعطل کا عملی نتیجہ ایک ’غیر مستحکم توازن‘ کی صورت میں نکلتا ہے، جہاں کوئی بھی چھوٹی سی حرکت یا غلط اندازہ کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

کوریا سے کشمیر تک: جب جنگ ختم نہیں ہوتی تو کیا ہوتا ہے؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جو حالات ہیں وہ بین الاقوامی سیاست میں کوئی غیر معمولی مظہر نہیں۔ حالیہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ متعدد جنگیں نہ تو کسی فیصلہ کن فتح پر ختم ہوئیں اور نہ ہی ان کا کوئی پائیدار، پرامن حل نکلا۔ یہ جنگیں ایک نامکمل اور مبہم کیفیت میں رک گئیں۔

بعض اوقات یہ صورتحال برسوں بلکہ دہائیوں تک قائم رہی۔ ان مثالوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’تزویراتی تعطل‘ کا دورانیہ تصور سے کہیں زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔

اس کی سب سے نمایاں مثال جزیرہ نما کوریا ہے۔ کوریائی جنگ 1953 میں جنگ بندی پر ختم ہوئی، لیکن کبھی باقاعدہ امن معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تب سے شمالی اور جنوبی کوریا عملاً حالتِ جنگ میں ہیں، اگرچہ ان کے درمیان کوئی بڑی براہِ راست جھڑپ نہیں ہوئی۔

دو کوریاؤں کے درمیان صورتحال میں سرحد پر فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی، میزائل تجربات، فوجی مشقیں اور سیاسی دھمکیاں دیکھی جاتی ہیں۔ گذشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے، پھر تعطل کا شکار ہوئے اور دوبارہ بحال ہوئے۔ جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان عملاً جنگ بندی ایک ’مستقل کیفیت‘ بن چکی ہے۔

اس کی ایک اور مثال کشمیر کے مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع ہے۔ دونوں ملک آزادی کے بعد کئی بار جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکے۔ حالیہ برسوں میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر محدود جھڑپیں، نازک جنگ بندی اور کشیدگی جاری رہی ہے۔

گذشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی لڑائی اس سلسے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

رقص ترامپ با یکی از نظامیان آمریکایی
Getty Images
تاہم دوسری جانب ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ دونوں فریق جان بوجھ کر ایسی صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔

خنجر کی دھار پر رقص

اگر آج بقول ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکہ ’ٹینگو ڈانس‘ کر رہے ہیں تو یہ رقص، بہت سی تاریخی مثالوں کے برعکس، محض سیاسی مفادات یا سکیورٹی خدشات پر نہیں بلکہ ایک گہری بنیاد پر قائم ہے جس کی جڑیں نظریاتی عدم مطابقت میں پیوست ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’فطری عدم مطابقت‘ اور ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ کی متکبرانہ فطرت مکمل فتح کے سوا کچھ قبول نہیں کرتی۔

ایسی صورتحال اور امریکہ کے متعلق ایران کے نظریاتی مؤقف کے مطابق جنگ بندی امن کی جانب کوئی قدم نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی کے تحت محض ایک وقفہ سمجھا جا سکتا ہے۔

اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ان کی جگہ لینے والے مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری پیغامات میں بھی اس صورتحال کو ’محاذِ جنگ پر خاموشی کا دور‘ قرار دیا گیا ہے۔

روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر جاری پیغام میں انھوں نے لکھا: ’امریکہ کی قیادت میں عالمی استکباری نظام کو اس قوم، اس کی ممتاز شناخت اور اس کی مزاحمت سے مسئلہ ہے۔‘

یہ تعبیرات واضح طور پر ٰثابت کرتی ہیں کہ براہِ راست جھڑپ نہ ہونے کے باوجود بھی تصادم کا تصور برقرار رہ سکتا ہے۔

امریکہ کے متعلق ایران کے اس نقطۂ نظر کے اہم مضمرات ہیں۔ اول، کوریا یا کشمیر جیسی مثالوں کے برعکس، جہاں تعطل میں ایک طرح کا استحکام پیدا ہو گیا ہے، ایران کے معاملے میں سیاسی ڈھانچے کے اندر پائیدار امن کا امکان بنیادی طور پر محدود بلکہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے اسلامی جمہوریہ کی سیاسی شناخت کا ایک بڑا حصہ اسی تصادم کے تناظر میں تشکیل پایا ہے، اور یہ تصادم ایران کی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔

تاہم امریکہ کے ساتھ نظریاتی تصادم کے باوجود، بحری ناکہ بندی، تیل کی برآمدات میں کمی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ بتدریج سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اس سے جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔

معاشی بحرانوں کے ساتھ ساتھ، سیاسی ہم آہنگی میں کمی اور نمایاں سیاسی و سکیورٹی شخصیات کی نظام سے علیحدگی ایسے نظریاتی نظام کو حکمتِ عملی کے تحت اپنی شرائط پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے اور کسی حد تک اسے ’زہر کا پیالہ‘ پینے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

دوسری طرف، اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو امریکہ کو بھی اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی خلل یا خطرے کے اثرات دو طرفہ بحران سے بڑھ کر عالمی معیشت اور خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل کا کردار بھی واشنگٹن کی حکمتِ عملی کی گنجائش کو مزید محدود کرتا ہے۔ ایسا عین ممکن ہے کہ اسرائیل کے سلامتی کے تقاضے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ’بحران کے انتظام‘ کے تصورات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

نتیجتاً ایران اور امریکہ کے درمیان موجود بحرانی صورتحال محض ایک سادہ تعطل نہیں بلکہ نظریات اور زمینی حقائق کے درمیان پھنسی ایک پیچیدہ اور غیر مستحکم توازن ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اندرونی عوامل بشمول معیشت اور عوامی مشکلات یا بیرونی عوامل میں سے کون سا مسئلہ ایران یا امریکہ کو نرمی اور پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ جب تک اندرونی اور بیرونی عوامل کا حتمی اثر سامنے نہیں آتا، یہ ٹینگو ڈانس فی الحال محتاط انداز میں جاری رہ سکتا ہے حتیٰ کہ کوئی نیا یا غیر متوقع عنصر اس توازن کو بگاڑ دے۔

چار جون کو وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ طور پر اپنے مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ اس وقت تک ایران کے ساتھ مکمل پیمانے کی جنگ دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جب تک امریکی فوجیوں کی ہلاکت نہ ہو۔

اگر بحران جاری رہتا ہے تو ایران کی ’تزویراتی صبر‘ کی پالیسی بھی ختم ہو سکتی ہ ۔ جیسا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا: ’اگر بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ہم حملہ کریں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US