وفاقی بجٹ 2026-27 کی آمد سے قبل ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین اور متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف صلاحیت کے سولر پینلز کی فی پلیٹ قیمت میں 7 ہزار سے 9 ہزار روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل، جو پہلے تقریباً 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 27 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح 645 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھ کر 31 ہزار 200 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 720 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 33 ہزار 500 روپے ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق بجٹ سے قبل قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے صارفین کو خریداری کے فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کے ساتھ ساتھ انورٹرز کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو گھریلو اور تجارتی سطح پر سولر توانائی کے منصوبوں کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔