’شکر کرو تمھیں مار نہیں رہے‘: بلوچستان میں معدنیات سے لدے ٹرکوں پر حملوں سے کس کا نقصان ہو رہا ہے؟

بلوچستان میں معدنیات لے جانے والے ٹرکوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں جلائی گئیں، کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور ٹرانسپورٹرز نے عدم تحفظ کے باعث معدنیات کی ترسیل محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کے پیچھے سکیورٹی کے ساتھ سیاسی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہیں۔
getty
Getty Images

’مسلح افراد نے روکنے کے بعد کہا کہ ہمیں معدنیات کی ترسیل کرنے والے ڈرائیوروں کو جان سے مارنے کا بھی حکم ہے لیکن شکر کریں کہ ہم آپ کو چھوڑ رہے ہیں اور صرف گاڑیوں کو جلارہے ہیں۔‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور عبدالصمد مری ان پانچ لوگوں میں شامل تھے جن کے ٹرکوں کو عیدالاضحیٰ سے چند روز قبل ضلع مستونگ کے علاقے آباد میں جلایا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مسلح افراد کی بہت منت سماجت کی لیکن انھوں نے ایک نہیں مانی اور ہم نے چند ہی لمحوں میں اپنی گاڑیوں کو آگ میں جلتے دیکھا۔‘

مئی کے مہینے کے آخری تین ہفتوں کے دوران ضلع مستونگ، چاغی اور نوشکی میں متعدد ٹرکوں کو جلانے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے ٹرانسپورٹروں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ بلوچستان سے معدنیات کی ٹرانسپورٹ نہ کریں۔

ان واقعات کے بعد گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نورمحمد شاہوانی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاہراہیں محفوظ نہ ہونے سے ہمارے متعدد ٹرکوں کو حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث ہم نے مجبوراً معدنیات نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

دوسری جانب حکومت کی جانب سے بلوچستان میں معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت فرنٹیئر کور مغربی کے نام سے ایف سی کا ایک نیا ہیڈ کوارٹر قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی۔

ان حملوں کے بعد کوئٹہ تفتان شاہراہ، جس پر قیمتی معدنیات کی ٹرانسپورٹیشن ہوتی ہے، کی سیکورٹی میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔

بعض سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بلوچستان میں معدنیات لے جانے والی ٹرکوں اور معدنی منصوبوں پر حملوں میں اضافہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور معاشی محرکات بھی کارفرما ہیں۔

لیکن ان حملوں سے حقیقت میں نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ حکومت معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے تحفظ کے لیے مزید کیا اقدامات کر رہی ہے اور تجزیہ کاروں کی ان حملوں کے بارے میں رائے کیا ہے؟ اس کا تذکرہ بعد میں، مگر پہلے ان حملوں پر بات کرتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

Getty Images
Getty Images
مئی کے مہینے کے آخری تین ہفتوں کے دوران ضلع مستونگ، چاغی اور نوشکی میں متعدد ٹرکوں کو جلانے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی

’گاڑیوں کو جلانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ڈرائیوروں کو بھی قتل کرنے کا حکم ہے‘

عبدالصمد مری نے بتایا کہ ان کا ایرانی کوئلے سے لدا پانچ ٹرکوں کا قافلہ تھا جو ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے کوئٹہ کی جانب آ رہا تھا۔

’جب ہم ضلع مستونگ کے علاقے آباد پہنچے تو وہاں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد کو دیکھا جنھوں نے روڈ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم وہاں رُکے تو مسلح افراد نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ہم نے یہ معدنیات لوڈ کیوں کی ہیں۔‘

’ہم نے ان سے درخواست کی کہ یہ ہمارا روزگار اور مجبوری ہے لیکن انھوں نے ہماری بات نہیں سنی اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنا شروع کردیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ گاڑیوں کو نہیں جلائیں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ ’ہمیں تو یہ حکم ہے کہ معدنیات کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھی جان سے مار دو لیکن ہم آپ کو چھوڑ رہے ہیں اور صرف گاڑیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس کے بعد انھوں نے پانچوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ہم نے ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان پانچ گاڑیوں میں دو دس وہیلر ٹرکوں میں سے ایک میرا تھا جبکہ ایک میرے چچازاد بھائی کا تھا۔‘

عبدالصمد مری کے مطابق انھوں نے اپنا ٹرک دو کروڑ 56 لاکھ روپے میں قسطوں پر خریدا تھا ۔

'ابھی بہت ساری قسطوں کی ادائیگی باقی ہے لیکن اب وہ گاڑی ہی نہیں رہی۔ اب پریشان ہیں کہ گھر کیسے چلائیں اور گاڑیوں کی قسطیں کہاں سے دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار کر دیے گئے ہیں۔ زمین سخت ہے اس کے اندر نہیں جا سکتے جبکہ آسمان بہت دور ہے۔ اب حیران ہیں کہ ہم کہاں جائیں اور کیا کریں؟‘

ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ ان پانچ ٹرکوں میں جو کوئلہ تھا اس کی منزل ڈیرہ غازی خان تھی۔

عبدالصمد مری نے بتایا کہ ’ہم نے مسلح افراد کو کوئلے کی بلٹیاں دکھائیں اور بتایا کہ یہ ایرانی کوئلہ ہے لیکن انھوں نے یہ بات نہیں مانی اور گاڑیوں کو جلا دیا۔‘

bbc
BBC
عبدالصمد مری نے بتایا کہ ان کا ایرانی کوئلے سے لدا پانچ ٹرکوں کا قافلہ تھا جو ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے کوئٹہ کی جانب آ رہا تھا

کن علاقوں میں معدنیات سے لدی گاڑیوں پر حملے زیادہ ہوئے؟

حالیہ دنوں میں جن شاہرایوں پر معدنیات سے بھری گاڑیوں پر حملوں کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ان میں کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ شامل ہیں۔

خاران کے راستے چاغی اور کراچی کے درمیان شاہراہ پر بھی ایسی گاڑیوں پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہونے کے علاوہ ضلع چاغی میں ایک معدنی کمپنی کے لیے تیل لے جانے والی ٹینکرز کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ضلع زیارت میں سرکاری حکام کے مطابق ہرنائی سے پنجاب کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے نذرآتش کیا۔

حالیہ واقعات سے قبل بھی قلات اور خضدار کے علاوہ بعض شمال مشرقی اضلاع میں معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

’ایک ہفتے میں 18 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا‘

مئی کے شروع سے تیسرے ہفتے تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم عسکریت تنظیموں کے شدت پسندوں کی جانب سے شاہراہوں کی ناکہ بندی کے دوران متعدد ٹرکوں اور آئل ٹینکرز کو نذرآتش کیا گیا۔

بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق مستونگ، خاران اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کے دوران معدنیات سے لوڈڈ متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

ایسوسی ایشن کے سربراہ نورمحمد شاہوانی نے بتایا کہ ’ایک ہفتے کے دوران 12 ٹرکوں پر حملے کیے گئے جن میں سے آٹھ بالکل ناکارہ ہو گئے۔۔۔ صرف ان گاڑیوں کی مد میں ٹرانسپورٹروں کا 18 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس صورت حال کے باعث ٹرانسپورٹروں نے آئندہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے معدنیات لوڈ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ’عدم تحفظ کے باعث ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

bbc
BBC
نورمحمد شاہوانی نے بتایا کہ ’ایک ہفتے کے دوران 12 ٹرکوں پر حملے کیے گئے اور صرف ان گاڑیوں کی مد میں ٹرانسپورٹروں کا 18 کروڑ روپے کا نقصان ہوا‘

جہاں بلوچستان میں گڈز ٹرانسپورٹروں کی ایک تنظیم نے بطور احتجاج معدنیات نہ اٹھانے کا اعلان کیا ہے وہاں دوسری تنظیم آل بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ تحفظ نہ ملنے کی صورت میں وہ غیر محفوظ علاقوں میں اپنی ٹرانسپورٹ کو نہیں چلائیں گے۔

اس ایسوسی ایشن کے سربراہ نوراحمد کاکڑ نے کہا کہ ’ٹرانسپورٹروں کے ساتھ جو ظلم ہوتا ہے حکومت اس کے نقصانات کا منصفانہ طور پر ازالہ نہیں کر رہی ہے۔‘

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2012 میں ٹرانسپورٹروں نے جب احتجاج کیا تو اس وقت کی حکومت نے ایسے واقعات میں نقصان کی صورت میں دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں یہ معاوضہ انتہائی کم ہے وہیں یہ انتہائی مشکل سے ملتا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود آل پاکستان ٹرانسپورٹ کے سپریم کونسل کے وائس چیئرمین بشیر حلیمی نے بتایا کہ ’جو گاڑیاں جلائی گئیں ان میں سے بعض کی قیمت چار کروڑ روپے تک ہے اور اس کے مقابلے میں دس لاکھ روپے کے معاوضے کی کیا حیثیت ہے؟ اس رقم میں تو ایک بڑی گاڑی کے ٹائر مشکل سے آتے ہیں۔‘

نوراحمد کاکڑ نے کہا کہ زراعت کے بعد ٹرانسپورٹ کا شعبہ بلوچستان میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اگر ٹرانسپورٹروں نے بلوچستان میں اپنی ٹرانسپورٹ بند کر دی تو اس سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو گا۔

بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات روزی خان مندوخیل کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹروں کو جو نقصان ہو رہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کا مناسب طور پر ازالہ کرے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹرانسپورٹروں کو کہا گیا ہے کہ جس کی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے وہ اس کی تفصیل ایسوسی ایشن کے پاس جمع کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نقصانات کی تفصیل گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دیں گے اور پھر دیکھتے ہیں کہ وہ کس حد تک نقصانات کا ازالہ کریں گے۔

روزی خان مندوخیل نے کہا کہ ’ابھی تک تو ٹرک مالکان کو نقصان برداشت کرنا پڑا ہے تاہم ٹرانسپورٹروں نے کوئٹہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے بات کرنی ہے کہ آئندہ معدنیات سے لوڈ گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کی صورت میں آیا گاڑی کا نقصان مال کا مالک دے گا یا کوئی اور؟‘

بلوچستان میں معدنیات کے کسی منصوبے یا ان سے لوڈ ٹرکوں پر حملوں کا رحجان نیا نہیں ہے بلکہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد سے ہی معدنی منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں اور ان کے کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

تاہم 2024 سے جب کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے اہم شاہراہوں پر ناکہ بندی کا سلسلہ شروع کیا تو اس دوران ان ٹرکوں کو زیادہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جو کہ معدنیات سے لوڈ تھے۔

ماضی میں یہ حملے زیادہ تر قلات اور مستونگ کے اضلاع میں ہوتے رہے جبکہ دکی اور ہرنائی کے اضلاع میں کوئلہ لے جانے والی ٹرکوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا۔

تاہم گذشتہ چند عرصے سے خاران، چاغی اور نوشکی میں بھی ایسے حملے ہوئے۔ ان میں سے چاغی سے کراچی یا پاکستان کے دوسرے علاقوں کے لیے معدنیات کی ٹرانسپورٹیشن ہوتی ہے۔

چاغی سے کراچی تک براستہ قلات فاصلہ اندازاً ساڑھے 13 سو کلومیٹر کے لگ بھگ ہے جبکہ خاران اور خضدار کے راستے چاغی اور کراچی کے درمیان فاصلہ اس کے مقابلے میں کم ہے۔

بلوچستان میں زیادہ تر معدنیات کہاں سے نکالی جا رہی ہیں؟

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں تاہم سب سے زیادہ معدنیات چاغی سے نکالی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ قلعہ سیف اللہ سے کرومائیٹ، ضلع لسبیلہ میں دودھڑ کے علاقے سے سیسہ، خضدار سے تعمیرات کے لیے استعمال ہونے والے قیمتی پتھر، بیرائٹ اور دیگر معدنیات نکالی جارہی ہیں۔

ان اضلاع کے علاوہ کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دُکی سے بڑے پیمانے پر کوئلہ نکالا جا رہا ہے۔

bbc
BBC

بلوچستان کے کسی اور ضلع کے مقابلے میں ضلع چاغی سے سب سے زیادہ معدنیات دریافت ہوئی ہیں۔

معدنیات کی بہتات کی وجہ سے ماہرین ارضیات ضلع چاغی کو ’منرل میوزیم‘ قرار دیتے ہیں۔

چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ ’کسی اور علاقے کے مقابلے ضلع چاغی میں معدنیات کے منصوبے بہت زیادہ ہیں جن میں غیر ملکی منصوبے بھی شامل ہیں۔‘

انھوں نے محکمہ معدنیات کی ایک فہرست کے حوالے سے بتایا کہ چاغی میں 280 سے زائد لیز الاٹ کی گئی ہیں لیکن ان میں بہت سارےچھوٹے منصوبے بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی منصوبوں میں سے سائندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ پر چینی کمپنی 2002 سے کام کر رہی ہے۔ ریکوڈک جس کا شمار دنیا میں تانبے اور سونے کے سات بڑے ذخائر میں ہوتا ہے، پر 2022-23 میں کام شروع ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسی دوران سیاہ ڈک کے علاقے میں بھی معدنیات کے منصوبے پر کام شروع ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ چاغی میں جن معدنیات کے لیے لیز الاٹ کی گئی ہیں ان میں تانبا، سونا، آئرن ہور، کرومائٹ، گرینائٹ، کانگلومرائٹ، جست، ایگلومرائٹ، انارتوسائٹ، ڈائیورائٹ، گابرو، کوارٹزائٹ، جم سٹون، میگنیز، مائیکا، کالسائٹ، گیلینا، اینٹی منی، سنگ مرمر، سلفر، پومائس،زنک اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔

بلوچستان سے معدنیات کو کہاں لے جایا جاتا ہے؟

معدنیات کو خام مال کی شکل میں بلوچستان سے باہر لے جایا جاتا ہے کیونکہ یہاں ان کو پراسیس کرنے اور ان سے دیگر اشیا بنانے کے پلانٹ اور کارخانے نہیں ہیں۔

علی رضا رند نے بتایا کہ ’چاغی میں کوئی ایسا کارخانہ نہیں جہاں خام مال کو پراسیس کیا جا سکے اس لیے انھیں زیادہ تر کراچی لے جایا جاتا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر ان کا معاشی لحاظ سے کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت چاغی میں سائندک پراجیکٹ سے جو معدنیات نکالی جارہی ہیں ان کو چاغی سے کراچی اور پھر وہاں سے چین لے جایا جاتا ہے جبکہ ریکوڈک سے ابھی تک پیداوار شروع نہیں ہوئی۔‘

ریکوڈک کے عہدیدار وقتاً فوقتاً کوئٹہ میں میڈیا کو جو بھی بریفنگ دیتے رہے ہیں ان کے مطابق چاغی سے خام مال کو ریلوے لائن کے زریعے کراچی اور پھر وہاں سے پراسیس کے لیے بیرون ملک لے جایا جائے گا۔

قلعہ سیف اللہ سے نکالی جانے والی کرومائٹ اور خضدار سے نکالے جانے والے قیمتی پتھروں کو بھی کراچی لے جایا جاتا ہے۔

ضلع لسبیلہ کے علاقے دودھڑ سے ایک چینی کمپنی سیسہ نکال رہی ہے اور وہاں سے پیداوار کو بھی کراچی منتقل کرنے کے بعد پراسیسنگ کے لیے چین منتقل کیا جاتا ہے۔

تاہم بلوچستان کے جن اضلاع سے کوئلہ نکالا جاتا ہے، اس کو پنجاب لے جایا جاتا ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب ان کی زیادہ تر ٹرانسپورٹیشن ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

ماضی میں حملے زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے شمالی اضلاع سے پنجاب تک لے جانے کے لیے سیکورٹی کانوائے کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم گڈزٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات روزی خان مندوخیل کا کہنا ہے اس سکیورٹی کی ٹرانسپورٹروں کو کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹرانسپورٹروں کو خصوصی سیکورٹی نہیں چائیے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایک ایسا ماحول بنائے جس میں ٹرانسپورٹرز کسی خدشے کے بغیر اپنی گاڑیوں کی نقل و حمل کو جاری رکھ سکیں۔‘

بلوچستان میں معدنیات کے منصوبے کس کے پاس ہیں؟

بلوچستان میں اس وقت معدنیات کے جو منصوبے چل رہے ہیں وہ زیادہ تر نجی کمپنیوں اور مالکان کے پاس ہیں۔

تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر مزدور رہنما اور پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ اس وقت سورینج، ڈیگاری اور شاہرگ میں پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ کوئلے کی تین منصوبے ہیں ’لیکن وہ بھی انھوں نے چلانے کے لیے نجی ٹھیکیداروں کے حوالے کیے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں افغانستان سے ملحقہ دو سرحدی اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ میں معدنیات کے دو منصوبوں کے لیے پی ایم ڈی سی کو اراضی الاٹ کی گئی ہے۔‘

’یہ اینٹی منی کے منصوبے ہیں اور ان پر کام کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔‘

’ٹرکوں اور نجی معدنی منصوبوں پر حملوں کو صرف سکیورٹی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں ہو گا‘

بلوچستان میں قوم پرست حلقوں کو یہاں سے نکالی جانی والی معدنیات کے استعمال کے حوالے سے تحفظات رہے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ان سے بلوچستان کے لوگوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا ہے۔

ان حلقوں کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دور میں تنازعے کا آغاز ہی معدنیات کی وجہ سے شروع ہوا جبکہ حال ہی بلوچستان حکومت کی جانب سے معدنیات سے متعلق نئے قانون پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی ان سیاسی رہنمائوں میں شامل ہیں جنھوں نے نئے قانون کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا جواب ریاست کو دینا چاہیے کہ معدنیات کے منصوبوں اور ان کو لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کیوں ہو رہے ہیں۔‘

تاہم ان کے بقول جب جعلی قانون سازی کے ذریعے معدنی یا دیگر وسائل پر بلوچستان اور اس کے عوام کے اختیار کو ان سے لے کر اسلام آباد کو دیا جائے گا تو اس سے لوگ ناراض تو ہوں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بلوچستان کے زبردستی الحاق‘ سے لے کر اب تک یہاں کے لوگ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاہم سابق صدر پرویز مشرف کے دور سے یہاں حالات زیادہ خراب ہوئے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ ’اگر بلوچستان کے ساتھ ایک کالونی جیسا سلوک کرنے کی بجائے ایک وفاقی اکائی جیسا سلوک کیا جاتا تو شاید حالات آج اس سے مختلف ہوتے۔‘

دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ ایسے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایل اے جیسی تنظیموں کو بلوچستان کی خوشحالی اور ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور انھیں اپنے لوگوں کی بھی پرواہ نہیں ہے۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دُشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کہنے پر آپریٹ کرتے ہیں اور یہ نہ تو چین، پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک منصوبہ چلنے دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ دُشمن قوتیں پاکستان کے اندرونی خلفشار کو ہوا دے کر اسے کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ’اگر آپ ایسا کام کر رہے ہیں جس سے آپ کے قبائل کے لوگوں کو نقصان ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔‘

بلوچستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور رفیع اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں حالیہ دنوں میں معدنیات لے جانے والی ٹرکوں اور نجی معدنی منصوبوں پر حملوں میں اضافے کو محض سکیورٹی کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں ہو گا بلکہ اس کے پیچھے گہرے سیاسی اور معاشی محرکات کارفرما ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچ قوم پرست اور عسکریت پسند تنظیمیں دونوں عموماً ان منصوبوں کو ’وسائل کے استحصال‘ اور مقامی آبادی کی محرومی کے مترادف سمجھتی ہیں۔‘

’ان کے نزدیک تاریخی طور پر بلوچستان کے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی لوگوں تک نہیں پہنچے۔ اور اب بھی جس طریقے سے ان قدرتی وسائل کو نکالنے کے منصوبے بنائے جا رہیں ہیں اس میں مقامی آبادی کو فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔‘

رفیع اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’قوم پرستوں اور عسکریت پسندوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو دیے جانے والے تحفظ کے نام پر مقامی آبادی کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگیں گی، چیک پوسٹیں بڑھیں گی اور مقامی افراد کے خلاف طاقت کا استعمال بڑھے گا۔‘

‎انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جہاں بلوچستان میں ترقیاتی حقوق اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے احساسِ محرومی بدستور موجود ہے اسی تناظر میں معدنیات کی ترسیل کرنے والی گاڑیاں اور نجی منصوبے نسبتاً آسان اور علامتی اہداف بن جاتے ہیں۔

’ان حملوں کے ذریعے عسکریت پسند نہ صرف ریاست اور سرمایہ کاروں کو پیغام دیتے ہیں بلکہ مقامی و بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی بھی ظاہر کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چاغی جیسے حساس اضلاع میں ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شورش اب صرف دور دراز پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔‘

تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر خان یوسفزئی اس سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا کہنا ہے کہ ’یہ خالصتاً دہشت گردی کے واقعات ہیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بیرونی اور دشمن ممالک کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر جہاں بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے وہاں بلوچوں کو معاشی حوالے سے بھی کمزور بنایا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’معدنیات کی گاڑیوں کو ہی نہیں بلکہ گذشتہ دنوں پھل اور سبزی لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس اقدام سے غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والی تنظیمیں یہاں کے لوگوں سے ان کا روزگار چھین رہی ہیں۔

اگرچہ سرکاری حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ پھلوں کی گاڑیوں کو جلایا گیا لیکن کوئٹہ سے نوشکی کے درمیان سفر کے دوران بی بی سی کو صرف ایک ہی مقام پر جلے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کے ڈھیر نظر آئے جبکہ شاہراہ کے زیادہ تر حصے پر معدنیات نظر آئے جو کہ ٹرکوں کو جلانے کے باعث پڑے تھے۔

دوسری جانب سبزیوں کی گاڑیوں کو جلانے کا جو واقعہ پیش آیا ان کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

معدنیات کے شعبے کے تحفظ کے لیے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے؟

وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے حالیہ دورہ کوئٹہ کے موقع پر ان کی صدارت میں اپیکس کمیٹی بلوچستان کے اجلاس میں معدنیات کے شعبے کے تحفظ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

اس اجلاس میں فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس فورسز جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس امر سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی۔

مزید یہ کہا گیا تھا کہ ’اس سکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سکیورٹی چیک پوسٹیں، سروائلینس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹیں وغیرہ شامل ہوں گی۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’سکیورٹی کوریڈور قائم کرکے حکومت چاہتی ہے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے خواہ وہ ٹرانسپورٹرز ہوں یا بزنس مین۔‘

انھوں نے کہا کہ عوام کو مزید سہولیات دینے اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ’ایف سی مغربی کے نام سے رخشاں ڈویژن میں ایک نیا ہیڈکوارٹر بنایا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رخشاں ڈویژن اور مکراں ڈویژن رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے علاقوں پر مشتمل ہیں جن کے لیے ایف سی سائوتھ کا ہیڈ کوارٹر ضلع کیچ کے تربت میں تھا جو کہ چاغی اور رخشاں ڈویژن کے دیگر علاقوں سے بہت دور ہے۔

getty
Getty Images
فائل فوٹو

کوئٹہ تفتان شاہراہ پر بھی سی پیک روٹ کی طرح سکیورٹی میں اضافہ

رواں سال 31 جنوری کو کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں بالخصوص نوشکی میں سرکاری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد کوئٹہ تفتان شاہراہ پر سکیورٹی میں اضافہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ابتدا میں نوشکی سے لے کر گلنگور کے علاقے تک پہلے سے موجود سکیورٹی فورسز کی پوسٹوں کے علاوہ پہاڑوں پر مزید پوسٹیں قائم کی گئیں تاہم مئی کے مہینے میں اس شاہراہ پر ناکہ بندی اور مال بردار گاڑیوں پر حملوں میں اضافے کے باعث عید کے بعد نوشکی سے کوئٹہ کے درمیان ایک سفر کے دوران بی بی سی نے دیکھا کہ نوشکی کے علاوہ ضلع مستونگ میں درینگڑھ تک کوئٹہ تفتان شاہراہ پر بھی متعدد مقامات پر نئی پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں۔

اس کے بعد بلوچستان میں یہ دوسری بڑی اور طویل شاہراہ بن گئی ہے جس پر بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی کی پوسٹِیں قائم کی گئی ہیں۔

اس سے قبل مکران ڈویژن میں گوادر سے پنجگور تک سی پیک روڈ پر بڑی تعداد میں سکیورٹی پوسٹیں قائم کی گئیں۔بالخصوص ان کی تعداد تربت سے پنجگور تک پہاڑی علاقے میں بہت زیادہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق تین سو کلومیٹر کے اس علاقے میں ہر پانچ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پوسٹ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سکیورٹی کے نئے انتظامات معدنیات کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں اور معدنی منصوبوں کے تحفظ کے لیے کس قدر مئوثر ثابت ہوں گے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سکیورٹی سے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔

بلوچستان سکیورٹی کی جس صورتحال سے دوچار ہے اس کے باعث بلوچستان کے امن وامان کے بجٹ میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر گذشتہ نو سال کے دوران امن وامان پر مجموعی اخراجات کے اضافے کا جائزہ لیا جائے تو ان میں خاصا اضافہ نظر آتا ہے۔ اس اضافے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال 18-2017 میں امن وامان پر مجموعی طور پر 30 ارب 79 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے۔

جبکہ رواں مالی سال یعنی 26-2025 کے لیے اس کا تخمینہ 100 ارب روپے سے زائد ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US