راولاکوٹ میں احتجاج جاری، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سے زیادہ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھشیڈول بھی کہا جاتا ہے میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاونٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیر استعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور اہم کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار میں ڈال دیے ہیں۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھشیڈول بھی کہا جاتا ہے، میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیر استعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پاکستانی وزارت داخلہ کو 70 سے زائد افراد کی فہرست بھجوائی تھی جن کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس تجویز کو متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاجاور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ ہزاروں کارکنان راولا کوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔

حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جبکہ روپوش رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ابھی تک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور مقامی حکومت ’پوائنٹ آف نو ریڑن‘ پر پہنچ چکے ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے تو وہ احتجاج ختم کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ مظاہرین اگر بنا کسی شرط اور مطالبے کے احتجاج ختم کر دیں تو ان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

وکلا اور کچھتاجر تنظیموں نے اپنے طور پر مظاہرین سے بات چیت ضرور کی ہے لیکن حکومت کی طرف سے انھیں یہ یقین دہانی نہیں کروائی گئی کہ آیا وہ ان کے مطالبات کو تسلیم کرے گی۔

Pakistan Kashmir
Getty Images

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر احتجاج جمعے کو 11 ویں روز میں داخل ہو گیا۔ہزاروں کارکنان راولاکوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔

مظاہرین بھمبر اور میر پور سے لانگ مارچ کر کے راولاکوٹ کے گردو نواح میں پہنچے ہیں لیکن انھیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔

پونچھڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین دن گیارہ بجے کے قریب دریک عید گاہ کے قریب جمع ہوتے ہیں اور پھر رات کو نو دس بجے کے قریب منتشر ہو جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک مظاہرین، سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 10 شہری اور چار پولیس اہلکار شامل ہیں۔

کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ میں چار دن کی توسیع

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ میں چار دن کی توسیع کردی ہے۔

نئے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 19 کی بجائے 23 جون تک جمع کروائے جا سکتے ہیں۔

اُدھر حکومت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار خواتین کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

مظفر آباد انتظامیہ نے چند روز قبل حکومت مخالف نعرے لگانے اور کالعدم تنظیم کے حق میں مظاہرہکرنے پر جن خواتین کو حراست میں لیا تھا انھیں شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق جمعے کے روز شہر میں فروٹ اور سبزی منڈیوں کے علاوہ بنیادی ضرورت کی اشیا کی متعدد دکانیں بھی کھلی ہیں۔

راولا کوٹ میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت

راولاکوٹ شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے اور پولیس کی گاڑیوں کے علاوہ شہر کی مساجد میں بھی اعلانات کروائے جا رہے ہیں، جس میں رہائشیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں کیونکہ شہر میں کرفیو نافذ ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

راولاکوٹ کی طرف جانے والے راستوں کی بندش کی وجہ سے شہر میں آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور لوگ پلندری اور دوسرے راستوں سے کھانے پینے کی اشیا لانے پر مجبور ہیں۔

راولاکوٹ کی رہائشی نذیراں بی بی کے مطابق انھوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے پیش نظر ایک ہفتے کا راشن محفوظ کر لیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’سات روز کا راشن یہ سوچ کر محفوظ کیا گیا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان زیادہ سے زیادہ ایک، دو روز راولاکوٹ میں قیام کے بعد مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کے لیے نکل جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

نذیراں بی بی کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں آٹا اور گھی ختم ہو چکا اور جب وہ قریبی علاقے میں رہائش پزیر رشتہ داروں سے یہ اشیا لینے گئیں تو انھیں معلوم ہوا کہ ’ان کے حالات بھی میرے گھر کے حالات جیسے ہی تھے، یعنی وہاں پر بھی کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی تھیں۔‘

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دوسرے شہروں سے ان کے گھر آنے والے ان کے عزیز و اقارب بھی کشیدہ حالات کے سبب اپنے گھروں کو جانے سے قاصر ہیں۔

راولاکوٹ کے رہائشی سردار طارق کے مطابق راولپنڈی سے ان کے قریبی رشتہ دار انھیں ملنے کے لیےپانچ جون کو راولاکوٹ آئے تھے اور ابھی تک اس علاقے میں ہی مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔

سردار طارق کا کہنا تھا کہ ’جتنی استطاعت تھی اس کے مطابق میں اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہا ہوں لیکن اب تو گھر میں راشن ختم ہی ہو کر رہ گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ شہر کی تمام دکانیں بند ہیں جبکہ راولاکوٹ کی طرف آنے والے تمام راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے گذشتہ ایک ہفتے سے شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی نہیں ہو رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے کوٹلی اور پلندری سے موٹر سایکل پرکچھ سامانآجاتا تھا لیکن اب تو شہر میں پیٹرول بھی نایاب ہے۔‘

جب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان سے ان حالات پر جواب طلب کیا گیا تو ان کا دعویٰ تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو اپنی دوکانیں بند رکھنے کا نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے اپنی مرضی سے دکانیں بند کی ہوئی ہیں اس لیے انھیں زبردستی دوکانیں کھولنے کا نہیں کہہ سکتے۔‘

سردار وحید خان کے مطابق میر پور اور بھمبر میں کاروباری مراکز کھلے ہیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمامشہروں میں مکمل ہڑتال ہے۔

مظفر آباد میں کاروبار نہ کھولنے پر کارروائی کی دھمکی

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں دکان داروں اور تاجروں سے کہا گیا کہ عوام کی سہولت اور خدمت کے لیے اشیائے ضروریہ فراہمکرنے والے دکاندار اپنے کاروبار کھولیں اور عدم تعمیل کی صورت میں ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابقضلعی انتظامیہ کے اس نوٹیفکیشن کے باوجود مظفر آباد کی تمام بڑی مارکٹیں اور دکانیں بند ہیں۔

ان کے مطابق ’بسوں کے اڈے ویران ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگوں کو سفر کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔‘

’ضلعی انتظامیہ کے افسران پولیس اور رینجرز کے ساتھ مارکیٹوں کا دورہ تو ضرور کر رہے ہیں لیکن وہاں پر کسی نے دکان نہیں کھولی۔ کچھ علاقوں میں چند ایک میڈیکل سٹور اور دودھ دہی والی دوکانیں کھلی ہیں۔‘

کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا لانگ مارچ اور احتجاج ختم نہیں کرے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کے مطالبات میں اولین مطالبہ ان کیتنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس لینا اور ان کارکنوں کی لاشوں کا حصول ہے، جن کے متعلق کمیٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہیں۔

کشمیر
BBC

تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ ملک لیاقت اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہمختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نہیں بلکہ مظاہرین کی جانب سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ یا کشمیر کے کسی علاقے میں اگر خوارک کی قلت پیدا ہو گئی ہے تو اس کی ذمہ داری پولیس، ضلعی انتظامیہ یا رینجرز پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ میں شاملمظاہرین کو یہ بارہا پیغام دیا جارہا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں پولیس اور ضلعی انتظامیہ ان کو معاونت فراہم کرے گی۔

ملک لیاقت کے بقول بہت سے مظاہریناپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان کی اس ضمن میں مدد بھی کی گئی ہے تاہم عوامی ایکشن کمیٹی اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس لانگ مارچ میں شامل ان شرپسندوں کے ساتھ کیسے رعایت برتی جا سکتی ہے جنھوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر گولیاں چلائیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دو روز قبل مظاہرین کی جانب سے آرمڈ پرسنیل کیریئر یعنی اے پی سی پر جو فائرنگ کی گئی اس کی گولیاں اے پی سی کے اندر تک چلی گئیں حالانکہ اے پی سی بم پروف ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مظاہرے میں شامل لوگوں کو پاس کس قسم کا جدید ہتھیار ہے۔‘

Pakistan Kashmir
AFP via Getty Images

مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز

پونچھڈویژن کے کمشنر وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولا کوٹ آنے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمتِ عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب مظفر آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز بھی بنا لیے ہیں۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفر آباد کے ٹانگہ سٹینڈ اور دیگر علاقوں میں پولیس نے ریت کی بوریوں کی عارضی دیوار بنا کر چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔

تھانہ سٹی میں تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ اقدامات کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے ممکنہ طور پر مظفر آباد میں دھرنا دینے کی کال کے پیشِ نظر کیا گیا۔

فرحان طارق کے مطابق پولیس نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن راجہ صہیب جاوید کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ راجہ صہیب اپنے گھر آئے ہوئے ہیں جس پر پولیس انھیں گرفتار کرنے گئی تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

Pakistan Kashmir
Getty Images

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ’مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US