پاکستان میں امریکی اور برطانوی طرز پر کاروباری تنازعات کے حل کے لیے متبادل ثالثی نظام (الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن) متعارف کرانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ججز، وکلاء، وزارتِ قانون اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک فعال اور شفاف نظام کے ذریعے کاروباری تنازعات کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت پاکستان میں ہزاروں مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جن میں خود ایس ای سی پی کے بھی متعدد کیسز شامل ہیں۔ کاروباری تنازعات کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا۔
ڈاکٹر کبیر سدھو نے برطانوی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں لازمی 'پری لٹیگیشن میڈی ایشن' (عدالت جانے سے قبل ثالثی) کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اور اب پاکستان میں بھی اسی طرز کا نظام لایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ کی حمایت سے یہ ثالثی نظام پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔ متبادل نظام سے نہ صرف مقدمات کے اخراجات کم ہوں گے اور ریکوریز تیز ہوں گی، بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں فنانشل سیکٹر کے لیے ایک 'اسپیشل ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر' قائم کیا جائے گا۔ یہ سینٹر امریکا کے کمرشل لا ڈویلپمنٹ پروگرام (CLDP) کے تعاون سے قائم کیا جائے گا، جو کاروباری برادری کو تنازعات کے فوری اور سستے حل کی سہولت فراہم کرے گا۔