’انصاف بھلے اندھا ہو مگر بھینگا نہ ہو‘

اگر ریاست چاہتی ہے کہ عام آدمی اس کی نہ صرف دل و جان سے عزت کرے بلکہ قومی حرمت کے تحفظ کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہ کرے تو ایک ہی طریقہ ہے۔ ریاست ہمیشہ رعایا سے سچ بولے، حقائق کو کسی بھی ذاتی، طبقاتی یا ادارہ جاتی مفاد کے حق میں توڑنے مروڑنے یا چھپانے سے اجتناب برتے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسے مقولوں کو جلاوطن کر دے۔
عدالت، آئین
Getty Images

اگر یہ کوئی عالمی سچ ہے کہ تشدد پر کسی نان سٹیٹ ایکٹر کی نہیں بلکہ ریاست کی مونوپلی ہونی چاہیے تو پھر ریاست کو بھی قسم کھانا پڑے گی کہ وہ کبھی بھی کسی بھی طور اپنے حقِ تشدد کی نجکاری میں ملوث نہیں ہو گی اور ریاستی رٹ میں کسی بھی طفیلیے کو عارضی یا مستقل ساجھے دار بنا کر اپنی ہی رٹ کی بے حرمتی نہیں ہونے دے گی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریاست شہریوں کی ضروریات اور رائے کے مطابق آئین بناتی ہے اور پھر خود کو نہ صرف اس آئین کا ماتحت بناتی ہے بلکہ اس کی محافظ بھی ہوتی ہے۔

واقعی آئین اس قدر اہم ہے تو پھر ہر ریاستی عہدے دار کو بھی اپنا یہ حلف محض اٹھانا نہیں بلکہ نبھانا بھی ہو گا کہ وہ بطور کسٹوڈین اس دستاویز میں شرائط و ضوابط کے ساتھ تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق بشمول حقِ اختلاف کا بلا مصلحت و غفلت تحفظ کرے گا، ان حقوق کی پامالی کی مزاحمت کرے گا اور عوام سے حب الوطنی کے تقاضے کے بدلے ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ جان و مال و عزت کے تحفظ پر خرچ کرنے کی حمایت کرے گا، عوام کو اپنی مرضی سے نمائندے چننے کی آزادی اور شفاف انتخابی عمل کے ذریعے ریاستی عمل داروں کے محاسبے کے حق کو بہر صورت یقینی بنائے میں ساتھ دے گا۔

جیسے تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی ہے اسی طرح شاہراہِ آئین پر بھی یکطرفہ ٹریفک نہیں چل سکتا۔ ایک جانب حقوق کی اور دوسری جانب فرائض کی ٹریفک بلا رکاوٹ چلتی ہے۔ اس شاہراہ پر من پسند رکاوٹیں کھڑی کرنے اور جب من چاہے ہٹانے کا حق نہ کسی فرد کو ہے اور نہ ہی کسی بھی ادارے کو۔

آئین پاکستان
BBC

اگر واقعی آئین مقدس ہے تو اس کا مطلب تو پھر سیدھا سیدھا یہ ہوا کہ کوئی بھی آئینی ادارہ کسی دوسرے پر نہ فوقیت رکھتا ہے اور نہ ہی اپنے لیے طے شدہ قانونی دائرہ توڑ سکتا ہے۔ بھلے اس کے لیے کوئی بھی خوشنما اصطلاح، بیانیہ یا نظریہِ ضرورت تلاش کر لیا جائے۔ حرام کسی بھی قانون یا فیصلے کی آڑ میں حلال نہیں ہو سکتا اور حلال کو کسی بھی آرڈیننس کے تحت حرام نہیں بنایا جا سکتا۔

اگر اس آئین کے علاوہ بھی کچھ مقدس ہے تو وہ عام آدمی ہے جو کسی بھی ریاست کو اپنا اختیار بطور امانت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ اجازت واپس بھی لے سکتا ہے۔ اس اصول کو کسی بھی تاویل یا عذر تلے پامال کرنے کا مطلب عوام کا حقِ حکمرانی غصب کرنا ہے اور غاصب اپنا نام کچھ بھی رکھ لے، کوئی بھی حلیہ بدل لے، غاصب ہی کہلائے گا۔

اگر ریاست چاہتی ہے کہ عام آدمی اس کی نہ صرف دل و جان سے عزت کرے بلکہ قومی حرمت کے تحفظ کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہ کرے تو ایک ہی طریقہ ہے۔ ریاست ہمیشہ رعایا سے سچ بولے، حقائق کو کسی بھی ذاتی، طبقاتی یا ادارہ جاتی مفاد کے حق میں توڑنے مروڑنے یا چھپانے سے اجتناب برتے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسے مقولوں کو جلاوطن کر دے۔

جو بھی قانونی، سماجی و معاشی اصلاحات ہوں وہ عاجلانہ چور دروازے سے نہیں بلکہ فرنٹ ڈور سے ہوں۔ ریاست میں اتنی اخلاقی جرات ہو کہ صبر کے ساتھ ہر طرح کے نقطہِ نظر کو سنے، برداشت کرے اور اگر متفقہ نہیں تو کثرتِ رائے کے اصول کے تحت ہونے والے فیصلوں کو بنا آنا کانی مکمل روح کے ساتھ نافذ کرے اور ان نافذ فیصلوں کا سب سے زیادہ احترام بھی ریاست خود کرے تاکہ وہ حقیقی مثالیہ بن سکے اور یہ محاورہ دھرانے کی گنجائش نہ ہو کہ مچھلی میں سڑاند سر سے شروع ہوتی ہے۔

سب سے اہم اصلاح یہ ہے کہ اختلاف یا جھگڑے کی صورت میں ایسے قاضی سے رجوع کیا جائے جس پر سائل کو مکمل اعتماد ہو اور اس قاضی کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد بھی ممکن ہو بلکہ ایک ہی قاضی ہی کیوں۔ ہر قاضی ایسا ہو کہ جس کی حرمت اور حسِ انصاف کی حریف بھی قسم کھا سکے۔ قاضی بچولیہ بنا نہیں اور انصاف پٹڑی سے اترا نہیں۔

چہار جانب تاریکی میں بے داغ انصاف کی روایت ہی واحد کرن ہے جو اندھیرے چھانٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انصاف بھلے اندھا ہو مگر بھینگا نہ ہو۔ انصاف ختم تو امید ختم، امید ختم تو ریاست کھوکھلے جابرانہ ڈھانچے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس ڈھانچے کو جب تک بازوؤں میں سکت ہے آپ کندھوں پر اٹھائے اٹھائے گھوم سکتے ہیں۔

ریاست اس لمحے سے کینسر زدہ ہونے لگتی ہے جب ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ قدغنیں لگنے لگیں، یکطرفہ بیانیے کی یلغار ہو جائے، حقائق تراشنے کی صنعت فروغ پانے لگے، سچائی کھوجنے کی حوصلہ شکنی کی حوصلہ افزائی ہونے لگے، ریاستی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں حصولِ معلومات کے عوامی حق کی غیر اعلانیہ تدفین کا چلن ہو جائے، گمنام ذرائع سے من گھڑت حقائق کی ایجاد اور انھیں قبول عام بنانے کی سرتوڑ کوششیں انتہائی پسندیدہ قرار پانے لگیں، ناپسندیدہ آوازوں کو کاسہ لیس مسخروں کی بھیڑ میں گم کرنے کی مسلسل مشق رواج پا جائے۔ مگر ایسے کرتبوں سے حاصل کیا ہو گا؟

Getty Images
Getty Images

مقصد اگر دنیا کی آنکھیں چندھیانا ہے تو ذرائع ابلاغ رفتہ رفتہ اس قدر بکثرت اور سیانے ہو چکے ہیں کہ جو دھول ان کی آنکھوں میں ڈالنے کے لیے اڑائی جائے گی وہ واپس اپنے ہی چہرے پر ہی جمی نظر آئے گی۔ پھر بھی اگر کوئی ذمہ دار خود پرستی اور سیان پتی کے عشق میں اندھا ہو تو یہ مرض لا علاج ہے۔

ہر ریاست کو حق ہے کہ وہ سافٹ پاور کا راستہ چنے یا ہارڈ سٹیٹ بن کے دکھائے۔ پر یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ سات ہزار برس میں سب سے کم اوسط عمر ہارڈ سٹیٹ نے ہی پائی۔ جو بھی ریاست انسانی جلبت اور کامن سینس کے آفاقی قانون کو خاطر میں نہ لائی بالاخر منہ کے بل ہی گری۔ جبکہ سافٹ پاور پر یقین رکھنے والا نظام وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے سبب بڑے بڑے طوفان سہہ گیا۔

مگر یوں لگ رہا ہے کہ ہمیں بھی پچھلوں کی طرح اس وہم نے جکڑ لیا ہے کہ جو دوسروں کے ساتھ ہوتا آیا وہ ہمارے ساتھ نہیں ہو گا کیونکہ ہم بہت ہی ’خاص‘ ہیں۔

والد مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ جس کا خاندان اس کے ساتھ کھڑا ہو گھر سے باہر اس کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ گھر والے ہی تم سے مسلسل بدزن اور شاکی ہوں تو پھر باہر بھی تمہیں ہر کوئی اپنا مطلب نکالنے کے لیے ذرا دیر کو منہ لگا کے آنکھیں پھیر لے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US