شام میں یہ کلپ اور اس عدالتی کارروائی سے متعلق دیگر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو شخص کٹہرے میں کھڑا نظر آ رہا ہے وہ شام کے سابق مفتیٔ اعظم احمد بدرالدین حسون ہیں۔
’یہ کوئی وعظ نہیں، آپ سوالوں کے جواب دینے کے لیے کھڑے ہیں۔‘ اس جملے کے ساتھ جج نے کٹہرے میں کھڑے ملزم کو روک دیا، جو قرآن کی ایک آیت پڑھنے لگا تھا۔
شام میں یہ کلپ اور اس عدالتی کارروائی سے متعلق دیگر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو شخص کٹہرے میں کھڑا نظر آ رہا ہے وہ شام کے سابق مفتیٔ اعظم احمد بدرالدین حسون ہیں۔
ان کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت جمعرات کو دمشق میں واقع محلِ انصاف میں ہوئی۔
77 سالہ سابق مفتیٔ اعظم کے خلاف مقدمے کو لے کر شامی سوشل میڈیا صارفین میں کافی تفریق پائی جاتی ہے۔
ایک صارف نے حسون کی جانب سے پڑھی گئی آیت کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو یہ آیت اس وقت یاد نہیں آئی جب آپ شامیوں کے قتل اور تباہی کے فتوے دے رہے تھے۔‘
کچھ تبصروں میں فرقہ وارانہ رجحانات بھی دیکھنے کو ملے۔ بعض نے لکھا کہ ’سنی مسلمان ایک سنی مفتی کا احتساب کر رہے ہیں‘ اور مطالبہ کیا کہ ’دیگر شامی اقلیتوں اور گروہوں کو بھی ایسی جرات دکھانی چاہیے اور اپنے رہنماؤں کو اس طرح کے الزامات پر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔‘
کچھ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حسون کے خلاف مقدمے کی سماعت عاشورہ کے دن ہو رہی ہے اور اسے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ وہ ’صحیح راستے پر‘ ہیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ حسون جو سنی فقہ سے تعلق رکھتے ہیں، کے خلاف مقدمہ ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جسے نئی (سنی) قیادت کے کھلے پن کی علامت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی دروز، علوی مذہبی شخصیت یا کسی چرچ کے پادری کو گرفتار کیا جاتا تو دنیا میں اب تک ہلچل مچ چکی ہوتی۔‘
وہیں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جنھوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کہ ’کسی سنی عالم نے حسون کی حمایت میں ایک لفظ یا فتویٰ تک نہیں دیا۔‘
بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ ’ایک ہی معیار سب پر لاگو ہونا چاہیے کیونکہ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک شخص کا احتساب ہو اور دیگر کو نظر انداز کر دیا جائے۔‘
کچھ لوگوں نے 77 سالہ سابق مفتیٔ اعظم کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر عوام کے سامنے دھکے دینے کے عمل پر تنقید کی اور کہا کہ یہ ’حقیقی اقتدار کے حامل حلقوں کی سختی اور نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔‘
اعظم احمد بدرالدین حسون نے حلب کی مساجد میں امام اور خطیب کے طور پر بھی خدمات انجام دیںسابق مفتی اعظم کے خلاف مقدمہ
سابق شامی مفتیٔ اعظم احمد بدرالدین حسون کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت دمشق میں واقع ملک کے اہم عدالتی ادارے محلِ انصاف میں ہوئی۔
سماعت کے موقع پر شام کے اٹارنی جنرل اور مقامی و بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔
سماعت کے دوران حسون کے خلاف جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل پر اکسانے کے الزامات ہیں۔
عدالت میں پیش کی جانے والی چارج شیٹ کے مطابق ’حسون کے بیانات، جو انھوں نے اپنے سرکاری منصب کے تحت دیے، مسلح تنازع کے دوران افسران اور اہلکاروں کے لیے قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرتے تھے۔‘
حسون کو ’بیرل مفتی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے شام کے مختلف علاقوں خصوصاً حلب پر بیرل بموں کے استعمال کی حمایت کی تھی۔
احمد بدرالدین حسون کون ہیں؟
احمد بدرالدین حسون 25 اپریل 1949 کو حلب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ ادیب حسون ایک صوفی عالم تھے۔
وہ 1967 میں مصر گئے جہاں انھوں جامعہ الازہر سے شافعی فقہ میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔
انھوں نے حلب کی مساجد میں امام اور خطیب کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایک سماجی تنظیم کی سربراہی بھی کی جس نے صحت کے ادارے قائم کیے۔
1990 میں وہ شامی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اورسنہ 1998 تک رکن رہے۔
2005 میں وہ شام کے مفتیٔ اعظم بنے حتیٰ کہ 2021 میں ایک صدارتی حکم کے تحت یہ عہدہ ختم کر دیا گیا۔
2017 میں عید الفطر کی نماز کے دورانحسون کا عروج بعث پارٹی اور اسد خاندان کے اقتدار کے ساتھ جڑا رہا۔ وہ شامی سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔
2011کی شامی بغاوت کے آغاز سے ہی انھوں نے بشار الاسد حکومت کی حمایت کی اور مظاہروں کو ’غیر ملکی سازش‘ قرار دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کا منصب سزائے موت کی منظوری کے عمل میں بھی استعمال ہوتا رہا۔
دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد حسون کو نئی قیادت کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا۔
فروری 2025 میں مظاہرین نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور مارچ میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے جس کے بعد انھیں دمشق ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔
جولائی 2025 میں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ شروع کیا گیا اور اب پہلی سماعت کے بعد اسے 16 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا۔
امیدیں اور چیلنجز
دمشق میں واقع محلِ انصافحسون کا مقدمہ سابق صدر بشار الاسد کے قریبی افراد کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی ایک کڑی ہے جسے عبوری انصاف کے عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بہت سے شامیوں کو امید ہے کہ انصاف بلا امتیاز ہو گا جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ شام کا عدالتی نظام دہائیوں سے کمزور رہا۔
اس کے باوجود کچھ حلقے ان مقدمات کو ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہیں۔
شامی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم پر کسی قسم کی عام معافی نہیں دی جائے گی۔
بہت سے شامی باشندوں کے لیے یہ مقدمہ نئی قیادت کے لیے بڑا امتحان ہے اور سابق مفتیٔ اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نمایاں ترین علامتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔