پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے قومی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بعد ملکی ہاکی کے پورے ڈھانچے کو بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں، انتظامیہ اور سلیکٹرز کے لیے 'زیرو ٹالرینس' اور سخت احتساب کی پالیسی نافذ کر دی ہے۔
پی ایچ ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم ترین پالیسی بیان میں ایف آئی ایچ (FIH) پرو لیگ کے آخری مرحلے میں قومی مینس ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر آنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ فیڈریشن نے واضح کیا کہ یہ نتائج ٹیم کی جسمانی فٹنس، جدید کھیل کی سمجھ بوجھ اور حکمت عملی کی شدید کمی کو ظاہر کرتے ہیں جس کے لیے اب ہنگامی اور سخت ترین اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔
صدر پی ایچ ایف محی الدین احمد وانی نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ مینجمنٹ نے محض چند ماہ قبل ہی فیڈریشن کا چارج سنبھالا تھا، جب کہ پرو لیگ کے پہلے دو مراحل گزشتہ برس کھیلے جا چکے تھے۔ نئی انتظامیہ نے آتے ہی تمام تر انتظامی اور لاجسٹک مسائل کو حل کر کے ٹیم کی پرو لیگ کے آخری مرحلے میں شرکت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کے باوجود اسی اسکواڈ نے حال ہی میں ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے اپنی بنیادی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جونیئر سیٹ اب کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں انڈر-18 قومی ہاکی ٹیم نے جاپان میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برانز میڈل (تیسری پوزیشن) اپنے نام کیا۔
صدر پی ایچ ایف نے واضح کیا ہے کہ اب وقتی حل یا عارضی فیصلوں کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ہاکی کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے 3 سے 4 سالہ جامع اسٹریٹجک پلان نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پلان کے تحت اب سے قومی ٹیم میں سلیکشن اور سینٹرل کونٹریکٹس کو خالصتاً کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن کے سخت ترین معیار سے جوڑ دیا گیا ہے، اور غیر معیاری فٹنس یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا، ہالینڈ (ڈچ) اور جرمنی جیسے ہاکی کے مضبوط گڑھ سے تعلق رکھنے والے عالمی معیار کے کوچز اور ہائی پرفارمنس فٹنس ٹرینرز پر مشتمل پینل کو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان لایا جا رہا ہے تاکہ وہ جونیئر اور سینئر سیٹ اپ کو جدید خطوط پر استوار کرسکیں۔
صدر محی الدین وانی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس چار سالہ پلان کے تحت مردوں کے ساتھ ساتھ گرلز ہاکی کی ترقی پر بھی برابر سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ملک بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے مخصوص ٹریننگ کیمپس، لوکلائزڈ پاتھ ویز اور بین الاقوامی معیار کی کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح کے لیے خواتین کا مضبوط ٹیلنٹ تیار کیا جاسکے۔
پاکستانی ہاکی شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم ایک تاریخی دوطرفہ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس کے بعد ستمبر میں پاکستان ٹیم جنوبی کوریا کا جوابی دورہ کرے گی، جس کے فوراً بعد قومی ٹیم ایشین گیمز مہم کا آغاز کرے گی۔
صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی نے مزید کہا کہ عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لیے وقت اور صبر درکار ہے۔ پی ایچ ایف اس 4 سالہ سائیکل اور بین الاقوامی میچز کے مصروف شیڈول کا بھرپور فائدہ اٹھائے گی تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور ناقابلِ شکست نظام وضع کیا جاسکے۔