بھارت کے سابق کھلاڑی کرکٹ مسائل پر تنقید ضرور کریں لیکن بدتمیزی نہیں، کامران اکمل

image

پاکستان کے سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر پاکستان بھارت کے خلاف 15 بار بھی کھیلے تو وہ ہار جائے گا۔

انہوں نے 'ہماری ویب ڈاٹ کام' (Hamariweb.com) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایک وقت تھا جب بھارتی ہمارے کچھ کھلاڑیوں سے ڈرتے تھے۔ ان کے گیند باز جانتے تھے کہ جلد وکٹیں لینے کے بعد بھی انہیں شاہد آفریدی یا عبدالرزاق جیسے کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔

پاکستان کرکٹ کی موجودہ حالت کو 'کپل شرما کامیڈی شو' سے تشبیہ دیتے ہوئے کامران نے کہا کہ میں یہ مثال دینا پسند تو نہیں کرتا لیکن پاکستان کرکٹ کپل شرما شو کی طرح بن چکی ہے۔

کامران نے کہا کہ انہوں نے پاکستان ٹیم کو بھارت سے کبھی اس طرح بری طرح ہارتے نہیں دیکھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ میں نے بھارت کے خلاف بہت کرکٹ کھیلی اور کئی یادگار میچوں کا حصہ رہا۔ لیکن وہ ہمیشہ سخت مقابلے ہوتے تھے اور ہم نے تمام فارمیٹس میں ان کے خلاف کئی بار کامیابی حاصل کی۔ آج مجھ جیسے شخص کے لیے یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔

53 ٹیسٹ اور 157 ون ڈے میچوں میں 11 سنچریاں بنانے والے کامران اکمل نے کہا کہ کچھ سابق بھارتی کھلاڑیوں، جن کے خلاف وہ کھیل چکے ہیں، کی جانب سے پاکستان کے بارے میں ہتک آمیز تبصرے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں عرفان پٹھان اور ہربھجن سنگھ جیسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی بھی ملک کے بارے میں غیر محتاط اور توہین آمیز بیانات نہ دیں۔ آپ کرکٹ کے مسائل پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں، لیکن بدتمیزی نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ زبوں حالی کی وجہ احتساب کا نہ ہونا اور میرٹ پر پسند ناپسند کو ترجیح دینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بہت گر چکا ہے، نہ تو ڈومیسٹک اور نہ ہی کلب کرکٹ پر کوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ میرٹ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جن گراؤنڈز پر یہ ڈومیسٹک میچز کرواتے ہیں وہ ایک مذاق ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے بس ایک بے مقصد خانہ پوری کی جا رہی ہو۔ماضی میں ہماری ڈومیسٹک اور کلب کرکٹ ہی وہ ریڑھ کی ہڈی تھی جو قومی ٹیم کو عالمی معیار کا ٹیلنٹ فراہم کرتی تھی۔

کامران اکمل نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کسی سلیکٹر کو ڈومیسٹک میچ دیکھتے نہیں دیکھا اور اب وہ صرف ڈیٹا اینالیسس (معلومات کے تجزیے) کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کسی کھلاڑی کی صلاحیت کا اندازہ میچوں میں اسے اچھی طرح دیکھے بغیر کیسے لگا سکتے ہیں؟ آپ ڈیٹا اور ویڈیوز کے ذریعے کسی کھلاڑی کے رویے، مزاج یا کھیل سے لگن کا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟

کامران نے بورڈ میں کام کرنے والے کچھ سابق کھلاڑیوں اور کپتانوں کے کردار پر بھی کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہے ہیں یا کیا سوچ رہے ہیں، لیکن بظاہر انہیں اپنے ائیر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکلنے اور پاکستان کرکٹ کے لیے کچھ تعمیری کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ہمارا آئینہ دکھانا اور ان کی فاش غلطیوں کو اجاگر کرنا پسند نہیں آتا، لیکن جب ہم اپنی کرکٹ کا یہ حال دیکھتے ہیں تو اس کے علاوہ ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟

کامران نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ کئی معاملات میں اقربا پروری (پسند ناپسند) کی وجہ سے قومی ٹیم میں کھیلنے کی قدر و قیمت کم ہوگئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے اور پھر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے مجھے کتنی جدوجہد کرنی پڑی تھی اور مسلسل پرفارم کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جہاں بھارتی کھلاڑیوں کے پاس سیکھنے اور فالو کرنے کے لیے کئی رول ماڈل موجود ہیں، وہیں پاکستان میں 2014 کے بعد سے صورتحال اس کے بالکل برعکس ہوچکی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US