پاکستانی کرکٹرز نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے آنے والے دوروں کی تیاری کے لیے جاری تربیتی کیمپ میں نہ صرف اپنی کرکٹ کی مہارتوں کو چمکایا ہے بلکہ اپنی انگریزی بولنے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا ہے۔
سینئر کھلاڑی سلمان علی آغا کے مطابق کھلاڑیوں نے اپنی انگریزی کو بہتر بنانے اور ذہنی طور پر مضبوط ہونے کے لیے خصوصی سیشنز میں شرکت کی ہے۔
پاکستانی سلیکٹرز نے اس طویل کیمپ کے لیے 25 کرکٹرز کو مدعو کیا تھا جو بدھ کو لاہور میں ختم ہو رہا ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آنے والے پانچ ٹیسٹ میچوں کے لیے دورہ کرنے والے اسکواڈ کا اعلان جمعہ تک کیا جائے گا۔
بورڈ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ منتخب کھلاڑیوں کے لیے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان بھی ٹیم کی 13 جولائی کو ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل کردیا جائے گا۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ یہ کیمپ صرف گراؤنڈ پر کرکٹ کھیلنے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ہم نے گراؤنڈ سے باہر بھی بہت سی سرگرمیاں کی ہیں۔ ہم نے انگریزی اور ذہنی مضبوطی کی کلاسز میں شرکت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے ان کلاسز کا اہتمام اس لیے کیا تھا کیونکہ اب دونوں شعبوں میں ایک خاص سطح کی مہارت کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لیکچرز دیے گئے اور کاؤنسلنگ سیشنز ہوئے کہ دباؤ کی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے اور ایسی صورتحال کے لیے خود کو ذہنی طور پر کیسے مضبوط بنایا جائے۔
حالیہ دنوں میں کچھ پاکستانی کرکٹرز میڈیا کانفرنسز، انٹرویوز یا تقریبات میں انگریزی زبان بولنے میں مہارت کی کمی کی وجہ سے میمز (memes) اور مذاق کا نشانہ بنے ہیں۔ خاص طور پر سینئر کھلاڑیوں اور سابق کپتانوں، محمد رضوان اور بابر اعظم کو اس مذاق کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کی قیادت کرنے والے سلمان نے کہا کہ ایک ماہ طویل اس کیمپ نے، جس کی نگرانی ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور ہائی پرفارمنس سینٹر کے ڈائریکٹر عاقب جاوید نے کی، کھلاڑیوں کو اپنی مہارت اور سب سے اہم بات یہ کہ فٹنس کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ یہ کھلاڑیوں کے درمیان باہمی تعلقات (بانڈنگ) کو مضبوط کرنے کی بھی ایک اچھی مشق رہی ہے کیونکہ اب ہمیں آگے کچھ مشکل میچوں کا سامنا ہے۔
سلمان نے کہا کہ وہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں ہونے والے ٹیسٹ میچوں کے منتظر ہیں کیونکہ کھلاڑیوں کو اندازہ ہے کہ انہیں اپنے ٹیسٹ ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہم سب کی توجہ صرف آنے والے ٹیسٹ میچوں پر مرکوز ہے۔