پاکستان کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کو سوشل میڈیا پر اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی ایک مبینہ جذباتی آڈیو لیک ہوئی، جس میں وہ ان سے طلاق نہ دینے کی التجائیں کر رہی ہیں اور پس منظر میں ان کے بچوں کے رونے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔
اس آڈیو نے سوشل میڈیا پر کرکٹر کے اپنی سابقہ اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رویے پر ایک عوامی بحث چھیڑ دی ہے، یہاں تک کہ معروف شخصیات اور عوامی حلقے بھی عماد کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
عماد نے شادی کے چھ سال اور تین بچوں کے بعد دسمبر 2025 میں ثانیہ کو طلاق دے دی تھی اور فروری 2026 میں انفلوئنسر نائلہ راجہ سے دوسری شادی کرلی تھی، یہ ایک ایسا اقدام تھا جو ان کے مداحوں کو پسند نہیں آیا تھا۔
آڈیو لیک ہونے سے عماد کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ان پر اس بات کے لیے برس رہے ہیں کہ انہوں نے شادی بچانے کے لیے اپنی سابقہ اہلیہ کی مفاہمت کی آخری کوشش کی قدر نہیں کی۔
ابھی کچھ ہفتے پہلے ہی ثانیہ اشفاق نے اپنے سابق شوہر پر بدسلوکی، ذہنی اذیت دینے اور بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کا الزام لگایا تھا۔ عماد نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی سابقہ اہلیہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں نائلہ راجہ کو ملوث نہ کریں۔
پاکستانی میڈیا پر بڑے پیمانے پر چلنے والی یہ آڈیو لیک مبینہ طور پر سابقہ جوڑے، خاندان کے ارکان اور پولیس حکام کے درمیان مفاہمت کی آخری کوشش کے دوران ہونے والی گفتگو ہے۔
ثانیہ اشفاق کے لیے ہمدردی اور عماد کے خلاف عوامی غصے کی وجہ یہ ہے کہ اس آڈیو کلپ میں ثانیہ کو عماد سے طلاق نہ دینے اور اپنے بچوں کے بارے میں سوچنے کی التجائیں کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کیسے کریں گی۔
ایک اور حصے میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر شادی بچانے کے لیے لندن سے اتنی دور آئی ہیں، لیکن عماد کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ انہیں پہلے ہی زبانی طور پر طلاق دے چکے ہیں۔ عماد اور ثانیہ نے اب تک اس آڈیو کلپ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے، اور اس کی حقیقت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔