اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا، جس میں ارکان پارلیمنٹ کے زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
فیصل سلیم الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کیا جانا چاہیے، جس کے لیے موجودہ قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کے چند بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری ہونے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تجویز دی کہ بل کو منظوری سے قبل کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے، تاہم سینیٹر عبدالقادر نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا کابینہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بحث کے بعد قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے ارکان پارلیمنٹ سیلری اینڈ الاؤنسز (ترمیمی) بل 2026 منظور کرلیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ اور سفارتی پاسپورٹ سے متعلق پالیسی فیصلے پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں، اس لیے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔