پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ خطے کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ مظفر آباد میں جمعے کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ خطے کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مظفر آباد میں جمعے کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے میرپور کے بعد مظفر آباد میں بھی الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے مگر پولیس نے ’بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔‘
جمعے کے روز مظفر آباد کے علاقے لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ سمیت مظفر آباد کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا جس کے دوران راولاکوٹ میں پولیس کی کارروائی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
مظفر آباد کے مقامی افراد اور عینی شاہدین کے بقول آنسو گیس کے کچھ گولے گھروں میں بھی گرے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظفر آباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے دوران مرکزی شاہراہ نیلم روڈ بھی کچھ دیر کے لیے بند کی گئی۔
دریں اثنا میرپور میں انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے ہی انٹرنیٹ بند ہے جس میں لینڈ لائن اور وائی فائی دونوں شامل ہیں۔
میرپور ڈویژن میں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 26 جولائی کو انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی۔ الیکشن کا دوسرا مرحلہ مظفر آباد ڈویژن میں دو اگست کو شروع ہو گا۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی جمعے کو راولاکوٹ میں مظاہرین کے حق میں احتجاج ہوئے ہیں۔ کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج سے قبل راستوں کی بندش کی گئی جبکہ لاہور میں پروگریسیو سٹوڈنٹ کولیکٹیو (پی ایس سی) کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال پر احتجاج کرنے پر اس کے کارکنان کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔ تاحال لاہور پولیس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دریں اثنا جمعے کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اندر ’آگ لگانے کی کوشش کی‘ اور اس حوالے سے ’باریک واردات کی گئی۔‘
انڈیا کی جانب سے اس حالیہ الزام پر تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم گذشتہ دنوں نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج ’دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر بحران کا شکار ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی کا مظاہرہ جاری ہے، بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش بھی ہوئی اور جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ’گولی بھی چلی، کئی جانیں گئیں۔‘ انھوں نے پوچھا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوتا جا رہا ہے‘ تو اس کا حل کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پر کیا گیا سوال بہت اہم ہے۔
انھوں نے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سیاق و سباق دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔‘
انھوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ بدامنی کے واقعات کا الزام انڈیا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کئی حربے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں (انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں) تو ہم نہ انھیں ڈرا سکے، نہ دھمکا سکے۔ انھوں نے سوچا ہم یہی کام پاکستان میں کر کے دکھاتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ چند روز قبل انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجودہ انتخابی عمل محض ایک نمائشی مشق ہے، جس کا مقصد پاکستان کے غیر قانونی قبضے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘
نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، جن کی تازہ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘
تاہم لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا دعویٰ ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اندر ’آگ لگانے کی کوشش کی۔ ان کے جزو جے کے ایل ایف (جموں کشمیر لبریشن فرنٹ) کے طور پر موجود ہیں۔۔۔ اس بار واردات تھوڑی باریک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس مہم کے پیچھے ’حقوق کا لبادہ رکھا گیا‘ اور حقوق کے معاملے پر ’گیم چلائی گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر حقوق، حقائق اور وسائل پر بات کی جائے تو پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔‘
’ریاست (پاکستان) کو اس وقت بھی اندازہ تھا کہ ان (جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) کے پیچھے یہ چیزیں ہیں، یہ خود ایکسپوز ہوں گے۔‘
ان کا مزید دعویٰ تھا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل ایجنڈا ’یہ ہے کہ وہاں سے آئے کشمیریوں کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ ریاست نے فراخ دلی کا مظاہرہ کر کے کہا آپ الیکشن میں آئیں، اکثریت حاصل کریں اور آئینی و قانونی طریقے سے جو کرنا چاہتے ہیں وہ کریں۔۔۔ لیکن وہ یہ ڈنڈے کے زور پر کرنا چاہتے ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر تشدد کا حق ہر ہجوم کو دے دیا گیا تو ہر کوئی اپنے مطالبات کے ساتھ سامنے آجائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مظاہرین کا ’12 سیٹوں پر ایجنڈا واضح ہو چکا ہے‘ لیکن ان سے نمٹنے میں ریاستِ پاکستان نے ’تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘
اپنے جواب میں انھوں نے 28 جولائی کو ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کا حوالہ دیا جس میں ان کے بقول یہ کہا گیا تھا کہ ’سردار ابراہیم اور سردار قیوم جیسے لوگوں کی سزا آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ ان غداروں نے قبائلیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ریاست تقسیم کروائی۔‘
سردار ابراہیم اور سردار قیوم 1947 میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے لڑنے والے رہنما تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مظاہرے کے دوران رہنماؤں کی جانب سے کی گئی بعض تقریروں کا بھی حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک تقریر میں پاکستانی فوج کو ’قابض فوج‘ کہا گیا جبکہ ان کے بقول درحقیقت پاکستانی فوج میں ’ایک لاکھ کشمیری ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کی ہلاکتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر جعلی معلومات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس معاملے سے ’فوج کا تعلق نہیں ہے‘ بلکہ کشمیر کی پولیس اِن مظاہرین کا مقابلہ کر رہی ہے کیونکہ وہ بھی ’ان کی اصلیت جانتے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین پُرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے الیکشن رکوانا چاہتے تھے مگر ’انتخابی عمل جاری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جس نے ظلم کیا، کسی کو قتل کیا اسے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ ہمیں آئین اور قانون کی پیروی کرنا ہو گی۔‘