لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

image

لاہور ہائیکورٹ نے ایک شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق فیملی اور سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شناختی کارڈ شہری کی بنیادی شناخت ہے اور اسے اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق فیملی کورٹ نے عدم پیشی کی بنیاد پر اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ قومی شناختی کارڈ شہری کی شناخت ثابت کرنے والی بنیادی دستاویز ہے، جسے بلاک کرنے کا اختیار فیملی کورٹ کے پاس نہیں۔ فیصلے میں اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کا بھی حوالہ دیا گیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب فیملی کورٹ نے طلب کیا، اس وقت درخواست گزار پاکستان میں موجود نہیں تھا۔

عدالت کے مطابق درخواست گزار کی اہلیہ نے نان و نفقہ کے مقدمے پر عملدرآمد کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US