وفاقی حکومت نے فوری طور پر سرپلس چینی کی برآمد کی تجویز مؤخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے پر آئندہ کرشنگ سیزن کے قریب دوبارہ غور کیا جائے گا تاکہ ملک میں چینی کی دستیابی برقرار رہے اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے بچا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقامی مارکیٹ کی صورتحال، چینی کے ذخائر اور آئندہ سیزن کی پیداوار کا جائزہ لینے کے بعد ہی برآمد کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملز نے 13 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کی برآمد سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی فیصلے سے قبل مقامی ضروریات اور قیمتوں کے استحکام کو ترجیح دی جائے گی۔
حکام کے مطابق گزشتہ سال چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 180 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے باعث حکومت اس بار محتاط حکمت عملی اختیار کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں درآمد کی ضرورت پیش نہ آئے۔
دوسری جانب شوگر انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر سرپلس چینی کی برآمد کی اجازت نہ دی گئی تو آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کے کاشتکاروں کو بہتر قیمت کی ادائیگی مشکل ہو سکتی ہے، جس سے زرعی شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔