سعودی عرب میں گیس سلینڈر دھماکے میں ہلاک ہونے والے پانچ پاکستانی دوست: ’حالات بہتر ہوئے تو وہ دنیا میں نہیں رہے‘

سعودی عرب کے شہر ریاض میں گیس سلینڈر دھماکے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ مزدوروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آنے پر ریاض میں پاکستانی سفارتخانے نے افسوس ظاہر کیا ہے۔

سعودی عرب کے شہر ریاض میں گیس سلینڈر دھماکے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ مزدوروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آنے پر ریاض میں پاکستانی سفارتخانے نے افسوس ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 15 جولائی کو ریاض کے علاقے منفوحہ کی رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں گیس سلنڈر کی لیکیج اور پھر پھٹنے سے دھماکہ ہوا تھا۔

بی بی سی کو ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے تین سعید، عابد اور عبدالرحمان جلو مانسہرہ کے رہائشی تھے جبکہ سفیر کا تعلق جابہ بالاکوٹ اور رستم گاندھیاں مانسہرہ سے تھے۔

یہ سب تعمیرات کے شعبے سے منسلک تھے اور شیٹرنگ کا کام کرتے تھے۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاض میں پاکستانی سفارتخانے نے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میتوں کی واپسی کے لیے وہ سعودی حکام سے رابطے میں ہیں۔

جدہ میں مقیم پاکستانی سفارت خانے کے پریس اتاشی چوہدری عرفان کا کہنا ہے کہ تاحال واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے سعودی حکام نے معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مقامی حکام مختلف قانونی تقاضوں میں مصروف ہیں اور پاکستانی سفارت خانہ ان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ میتوں کی واپسی کا عمل اتوار کو شروع ہو گا اور میتیں منگل کو پاکستان واپس پہنچیں گی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

مانسہرہ کی ایک یونین کونسل کے چیئرمین محمد یونس بتاتے ہیں کہ ’عابد، عبدالرحمان، سعید اور سفیر ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے جبکہ رستم ان سے ملنے کے لیے آئے تھے۔‘

یہ پانچوں اپنی دن بھر کی مزدوری ختم کرنے کے بعد اکٹھے ہوئے تھے اور اسی کمرے میں گپ شپ لگا رہے تھے۔

محمد یونس کا کہنا تھا کہ ان کے کمرے کے ساتھ ہی ایک کچن ہے جہاں پر سلنڈر میں یہ لوگ اپنا کھانا اور چائے وغیرہ بناتے ہیں۔

ان چاروں نے ممکنہ طور پر رستم کی مہمان نوازی کی اور اس کے لیے کھانا، چائے وغیرہ بنائی۔

جس کے بعد شاید یہ اپنا چولہا یا گیس سلنڈر بند کرنا بھول گئے یا ان کا گیس سلنڈر بند نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرے میں ایئر کنڈیشن لگا ہوا تھا جبکہ کھڑکیاں، روشن دان اور دروازے سب بند تھے۔ ’کمرے میں گیس جمع ہوتی رہی اور یہ چاروں ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔‘

’بعد میں ان کے ساتھ ملحق روم والے آئے اور انھوں نے چولہا جلانے کے لیے لائٹر وغیرہ جلایا تو اس سے دھماکہ ہوا۔‘

محمد یونس کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد لوگوں اور امدادی کارکنوں نے اپنی امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔

واقعے میں ہلاک ہونے والے سفیر کے بھائی صغیر اور رستم کے بھائی اصغر نے بھی یہی بتایا ہے۔

تاہم اس حوالے سے جدہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے اور سعودی احکام نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

پانچوں آپس میں دوست تھے

مانسہرہ اور بالاکوٹ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعمیرات کے شعبے میں شیٹرنگ سے منسلک ہے۔

واقعے میں ہلاک ہونے والے پانچوں آپس میں دوست تھے اور تین قریبی عزیز تھے۔

سعید، عابد اور عبدالرحمان کے خاندان بالاکوٹ میں آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد جلو مانسہرہ منتقل ہو گئے تھے۔

جلو مانسہرہ میں ان کے گھر ایک ہی محلے میں واقع ہیں۔

محمد یونس کا کہنا تھا کہ سعید نے سوگواروں میں دو بیویاں اور پانچ بچے چھوڑے ہیں اور وہ گذشتہ چند سالوں سے سعودی عرب میں مقیم تھے۔

عابد نے بیوہ اور دو بچے، عبدالرحمان نے تین بچے، سفیر نے پانچ بچے اور بیوہ، جبکہ رستم نے تین بچے اور بیوہ سوگوار چھوڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے کے کافی لوگ سعودی عرب میں ہیں۔ ہمارے لوگ زیادہ تر تعمیرات میں شیٹرنگ کا کام کرتے ہیں اور سعودی عرب میں بھی ہمارے ہی علاقے کے لوگ زیادہ تر شیٹرنگ کا کام کر رہے ہیں۔‘

محمد یونس کا کہنا تھا کہ سعید، عابد اور عبدالرحمان تو آپس میں رشتہ دار تھے، یہ پہلے ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

مگر یہ لوگ رستم اور سفیر کے ساتھ سعودی عرب میں ملے تھے اور وہاں پر ان کی اتنی زیادہ دوستی ہو گئی تھی کہ ان کو ہر وقت ساتھ دیکھا جاتا تھا اور یہاں تک کہ یہ ساتھ کام بھی کرتے تھے اور رہائش بھی اکٹھی رکھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ رستم کو ریاض ہی میں کسی دوسری جگہ کام کرنا پڑا اور پھر اس کو رہائش بھی تبدیل کرنا پڑی، مگر اس کے باوجود یہ روز ملتے تھے۔

ایک دن یہ چاروں رستم کی رہائش گاہ پر چلے جاتے اور دوسرے دن رستم ان کی رہائش گاہ پر آ جاتا تھا۔

ان میں سے جب بھی کوئی پاکستان آتا تو اپنے دوستوں کے خاندان والوں سے ملتا اور ان کے لیے تحفے تحائف بھی لاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعید نے حادثے سے دو دن قبل 13 جولائی کو پاکستان آنا تھا، مگر اس کو وہاں سے کلیئرنس نہ مل سکی اور کوئی ایسا معاملہ ہوا کہ وہ واپس نہیں آ سکا۔

جس بنا پر محمد سعید نے اپنی واپسی کا پروگرام مؤخر کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ ساری کلیئرنس وغیرہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان آئے گا۔

محمد یونس کا کہنا تھا کہ سعید الرحمن نے جہاں اپنے اہل خانہ کے لیے تحائف خریدے تھے وہاں اس نے اپنے دوستوں کے بال بچوں کے لیے بھی تحائف خریدے تھے۔

تحفے سعودی عرب ہی میں رہ گئے

سعید، عابد اور عبدالرحمان آپس میں قریبی دوست تھے اور اس وقت مانسہرہ میں ان کی تعزیت کے لیے ایک ہی مقام پر مقامی روایات کے مطابق دعا اور تعزیت کا اہتمام کیا گیا ہے، جہاں پر علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔

عزیز اس وقت جلو مانسہرہ میں تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کی مہمان داری کر رہے ہیں۔ واقعے میں ہلاک ہونے والے عابد ان کے بھائی، سعید پھوپھی زاد بھائی اور عبدالرحمان ان کے بھانجے ہیں۔

عزیز کا کہنا تھا کہ سعید الرحمن کی پاکستان کی فلائٹ 13 جولائی کو تھی مگر کچھ معاملات پیش آ گئے اور اب اس کا پروگرام تھا کہ وہ ایک ہفتے بعد آئے گا۔

مگر اس نے سعودی عرب میں خریداری مکمل کر لی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس نے مجھ سے بھی پوچھا کہ ماموں آپ کے لیے کیا لے کر آؤں تو میں نے مذاق میں کہا کہ بھانجے، میرے لیے کیا لانا ہے؟ بس اپنے اہل خانہ اور اپنے دوستوں کے لیے تحائف لے آنا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس نے مجھے ویڈیو کال کی اور خریدے ہوئے تحائف دکھائے اور میرے لیے جو خریدا تھا وہ بھی بتایا۔‘

’اس موقع پر میں نے اس سے کہا کہ رستم اور سفیر کے بچوں کے لیے کیا ہے؟‘

’تو کہنے لگا کہ جو کچھ میں نے اپنے، عابد اور عبدالرحمان کے بچوں کے لیے خریدا ہے، وہی کچھ میں نے رستم اور سفیر کے بچوں کے لیے بھی لیا ہے۔‘

عزیز کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگوں اور ان بچوں نے بہت مشکل حالات دیکھے تھے۔ زلزلہ آیا تو گھر بار اور مکانات تباہ ہو گئے تھے۔‘

’عزیز رشتہ دار ہلاک ہو گئے تو اس کے بعد ہمارے لیے بالاکوٹ میں رہائش اختیار کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے ہم لوگ جلو مانسہرہ منتقل ہو گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مانسہرہ میں مزدوری نہیں ملتی تھی۔ ’یہ بچے ایبٹ آباد، اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے تھے کام کرنے، مگر پھر بھی حالات نہیں سدھرتے تھے۔ ہمارے علاقے ہی کے کچھ ٹھیکیدار وہاں پر کام کرتے ہیں۔‘

ان کے بقول جب انھیں شیٹرنگ کے ماہر لوگوں کی ضرورت پڑی تو وہ کافی لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے جس کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے۔

عزیز کا کہنا تھا کہ ’حالات بہتری کی طرف گئے تو یہ تینوں بچے ہی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘

’لگتا ہے کہ زندگی کا سفر دوبارہ وہیں سے شروع کرنا پڑے گا جہاں پر سعید، عابد اور عبدالرحمان کے سعودی عرب جانے سے پہلے تھا۔‘

باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا

رستم گاندھیاں مانسہرہ کے رہائشی ہیں اور ان کے بھائی محمد اصغر بتاتے ہیں کہ وہ تقریباً ایک سال پہلے ہی واپس سعودی عرب گئے ہیں۔

ان کے دو بچے اور ایک بچی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی بچی دودھ پیتی ہے جس کی پیدائش رستم کے سعودی عرب جانے کے بعد ہوئی تھی۔

محمد اصغر کا کہنا تھا کہ ’دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہے۔ میں بڑا بھائی ہوں تو اکثر اوقات وہ میرے ساتھ بات کرتا تھا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد جب بھی میری اس سے بات ہوتی تو وہ صرف بیٹی کے بارے میں پوچھتا تھا کہ وہ کیسی ہے، کیا کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ جب بھی کام سے فارغ ہوتا تو ویڈیو کال کرتا اور اپنی بیٹی اور بیٹے کو دیکھتا رہتا تھا۔‘

’اکثر اوقات وہ ویڈیو کال پر اپنی اہلیہ سے کہتا تھا کہ ذرا ویڈیو کال بیٹی پر چھوڑ دو، اور وہ کھیلتی، روتی، اور وہ اس کو دیکھتا رہتا تھا۔‘

محمد اصغر کا کہنا تھا کہ ’رستم کے اپنے بچوں کے حوالے سے بہت اونچے خواب تھے۔‘

’اس کا خیال تھا کہ وہ مزید دس سال تک سعودی عرب میں کام کرے گا اور اس کے بعد واپس پاکستان آ جائے گا اور پاکستان ہی میں کوئی کام کر لے گا تاکہ دس سال بعد جب اس کی بیٹی اور بیٹے کو ضرورت ہو تو وہ ان کی تعلیم کی نگرانی بھی کر سکے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US